کمبوڈیا میں ڈیزل اور پٹرول کی درآمدی لاگت میں 15.5 فیصد اضافہ

کمبوڈیا میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ڈیزل اور پٹرول کی درآمدات پر اخراجات بڑھ کر 624 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 540 ملین ڈالر کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ ہیں۔

نوم پنہ۔22اپریل (اے پی پی):کمبوڈیا میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ڈیزل اور پٹرول کی درآمدات پر اخراجات بڑھ کر 624 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 540 ملین ڈالر کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ ہیں۔ شنہوا کے مطابق یہ بات وزارت تجارت کی جانب سے بدھ کو جاری رپورٹ میں بتائی گئی۔رپورٹ کے مطابق جنوری تا مارچ کے دوران ڈیزل کی درآمد پر 366 ملین ڈالر خرچ کیے گئے، جو 10.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ پیٹرول کی درآمدات پر 258 ملین ڈالر خرچ ہوئے جو 24 فیصد زیادہ ہیں

۔چائنا آسیان سٹڈیز سینٹر، کمبوڈیا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس کے نائب ڈائریکٹر تھونگ مینگ ڈیوڈ نے کہا کہ اخراجات میں اضافہ ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کمبوڈیا کو درآمدی بل خصوصاً ٹرانسپورٹ اور خوراک کے شعبوں میں دباؤ اور مہنگائی کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو توانائی کے متبادل ذرائع جیسے قابل تجدید توانائی پر توجہ بڑھانے، آئل ریفائنری کے قیام یا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وزارت تجارت کے مطابق بدھ کے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 5,700 ریئلز (1.42 ڈالر) جبکہ پیٹرول کی قیمت 4,950 ریئلز (1.24 ڈالر) ریکارڈ کی گئی۔