گزشتہ سال دنیا بھر میں 124 صحافی ہلاک ہوئے ، 70 فیصد کا ذمہ دار اسرائیل ہے،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس

نیو یارک۔13فروری (اے پی پی):صحافیوں کے تحفظ کے لیےقائم کی گئی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں 124 صحافی ہلاک ہوئے اور ان اموات کا تقریباً 70 فیصد اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ سی پی جے نے گزشتہ روز جاری رپورٹ میں کہا کہ حالیہ تاریخ میں گزشتہ سال صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا۔ …

نیو یارک۔13فروری (اے پی پی):صحافیوں کے تحفظ کے لیےقائم کی گئی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)نے کہا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں 124 صحافی ہلاک ہوئے اور ان اموات کا تقریباً 70 فیصد اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ سی پی جے نے گزشتہ روز جاری رپورٹ میں کہا کہ حالیہ تاریخ میں گزشتہ سال صحافیوں کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا۔ گذشتہ سال 124 صحافی جان سے گئے ۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے دوران مجموعی طور پر 85 صحافی جان سے گئے ،یہ تمام اموات اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہوئیں، ان میں 82 صحافی فلسطینی تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اضافہ جو 2023 کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے بین الاقوامی تنازعات، سیاسی بدامنی اور عالمی سطح پر مجرمانہ سرگرمیوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

سی پی جے کی سی ای او جوڈی گنزبرگ نے کہا کہ آج سی پی جے کی تاریخ میں صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری تنازع صحافیوں پر اپنے اثرات کے لحاظ سے غیر معمولی ہے اور عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے اصولوں میں نمایاں خامی کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فری لانس صحافی سب سے زیادہ خطرے میں رہے کیونکہ ان کے پاس وسائل کی کمی تھی اور 2024 میں جان سے جانے والے 43 صحافی فری لانسر تھے۔سی پی جے کا کہنا ہے کہ 2025 کے ابتدائی ہفتوں میں ہی 6 صحافی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس سے نئے سال کے لیے بھی کوئی امید افزا صورت حال نظر نہیں آتی۔