لاہور۔12فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق گندم کے کاشتکار فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور کسی بھی بیماری یا کیڑوں کے حملہ کی صورت میں فوری تدارک کریں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع نہ ہو۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا کہ گندم کی زرد کنگی کے پھیلا ئو کیلئے موزوں درجہ حرارت10 تا 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔اس بیماری کا حملہ عام طور پر …
گندم کے کاشتکار فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور کسی بھی بیماری یا کیڑوں کے حملہ کی صورت میں فوری تدارک کریں،ترجمان محکمہ زراعت
لاہور۔12فروری (اے پی پی):ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق گندم کے کاشتکار فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور کسی بھی بیماری یا کیڑوں کے حملہ کی صورت میں فوری تدارک کریں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع نہ ہو۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا کہ گندم کی زرد کنگی کے پھیلا ئو کیلئے موزوں درجہ حرارت10 تا 20 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔اس بیماری کا حملہ عام طور پر پتوں پر ہی ہوتا ہے جبکہ انتہائی شدید حملے کی صورت میں سٹے بھی متاثر ہوتے ہیں۔اس کی پہچان یہ ہے کہ پودے کے پتوں پر زرد رنگ کے چھوٹے چھوٹے دھبے متوازی قطاروں میں یا لائنوں میں صف بستہ ہوتے ہیں۔
وبائی حملے کی صورت میں اس کا نقصان بھوری کنگی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔شدید حملے کی صورت میں نقصان20 تا50 فیصد تک ہو سکتا ہے۔بھوری کنگی کے پھیلائوکیلئے موزوں ترین درجہ حرارت20 تا25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔اس بیماری کا حملہ عام طور پر پودے کے پتوں پر ہوتا ہے،جس کی وجہ سے خاکی رنگ کے دھبے لائنوں کی بجائے بے ترتیب اور منتشر ہوتے ہیں۔بڑھوتری کی اگیتی حالت میں حملہ ہونے پر پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پودے کا خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔سٹے کو خوراک دینے والے پتے پر حملہ کی صورت میں پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ وبائی صورت اختیار کرنے پر یہ بیماری گندم پر حملے کی صورت میں فی ایکڑپیداوار میں30 فیصد تک کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
کاشتکار فصل پرکنگی کے حملہ کی صورت میں پھپھوندکش زہروں کا استعمال محکمہ زراعت (توسیع یا پیسٹ وارننگ) پنجاب کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔









