یوکرینی ارب پتی رینات اخمیتوف نے موناکو میں 47.1 کروڑ یورو (تقریباً 55 کروڑ ڈالر) مالیت کا ایک لگژری اپارٹمنٹ خریدا ہے، جو "بلومبرگ” کے مطابق عالمی سطح پر رہائشی جائیدادوں کی مارکیٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین سودا ہے۔
یوکرینی ارب پتی نے 55 کروڑ ڈالر میں تاریخ کا مہنگا ترین گھر خرید لیا، بلوم برگ رپورٹ

مزید خبریں
نیویارک ۔24اپریل (اے پی پی):یوکرینی ارب پتی رینات اخمیتوف نے موناکو میں 47.1 کروڑ یورو (تقریباً 55 کروڑ ڈالر) مالیت کا ایک لگژری اپارٹمنٹ خریدا ہے، جو "بلومبرگ” کے مطابق عالمی سطح پر رہائشی جائیدادوں کی مارکیٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین سودا ہے۔بلوم برگ کے مطابق یہ اپارٹمنٹ "ماریٹررا” نامی پروجیکٹ کا حصہ ہے، جو موناکو کے جدید ترین علاقوں میں سے ایک اور دنیا بھر کے امیر ترین افراد کی پسندیدہ جگہ بن چکا ہے۔
پانچ منزلوں پر مشتمل اس اپارٹمنٹ میں 21 کمرے، نجی سوئمنگ پول، جاکوزی اور 8 پارکنگ لاٹس موجود ہیں، جبکہ بحیرہ روم کے سامنے بالکونیوں اور ٹیرس کے علاوہ اس کا رہائشی رقبہ تقریباً 2500 مربع میٹر ہے۔بلومبرگ کے حاصل کردہ ریکارڈز اور دستاویزات کے مطابق، اس سودے کی با ضابطہ تصدیق 2024 کے دوران کی گئی۔
اخمیتوف کی ہولڈنگ کمپنی "SCM” نے خریداری کی تصدیق تو کی ہے لیکن حتمی قیمت ظاہر نہیں کی۔ اس ریکارڈ ساز قیمت نے اس سودے کو لگژری پراپرٹی کی فروخت میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے، جس نے لندن کے پوش علاقے چیلسی میں 30 کروڑ یورو کے بنگلے اور نیویارک میں 20.5 کروڑ یورو کے پینٹ ہاؤس کے سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔بلومبرگ نے یہ بھی بتایا کہ اس خریداری کا معاہدہ یوکرین پر روسی حملے سے قبل طے پایا تھا، جو عالمی رئیل اسٹیٹ میں اخمیتوف کی وسیع سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔
رینات اخمیتوف 7 ارب ڈالر سے زائد اثاثوں کے ساتھ یوکرین کے امیر ترین شخص ہیں، جنہوں نے دھات سازی، کان کنی اور توانائی کے شعبوں سے اپنی دولت بنائی۔ ان کے پاس رئیل اسٹیٹ کا ایک بڑا پورٹ فولیو ہے جس میں فرانسیسی ریویرا پر واقع مشہور "لیس کیڈریس” ولا جیسی تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔








