اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی کا سلامتی کونسل میں خطاب

اسلام آباد ۔ 27 اپریل (اے پی پی) پاکستان نے عالمی برداری سے تنازعات کے خاتمے کے لیے ان کی اصل وجوہات ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جامع کاوشوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دنیاکے مختلف خطوں میں قابض افواج کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر کیے جانے والے جنسی تشدد کو ختم کیا جا سکے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے …

اسلام آباد ۔ 27 اپریل (اے پی پی) پاکستان نے عالمی برداری سے تنازعات کے خاتمے کے لیے ان کی اصل وجوہات ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جامع کاوشوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دنیاکے مختلف خطوں میں قابض افواج کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر کیے جانے والے جنسی تشدد کو ختم کیا جا سکے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے کہا کہ متنازعہ علاقوں میں خواتین پر ہونے والے جنسی تشدد سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے کہ تنازعات کو ختم کیا جائے ،تنازعات کے خاتمے کے بغیر سلامتی کونسل خواتین کو جنسی تشدد سے مخفوظ رکھنے کیلئے موثر کردار ادا نہیں کرسکتی کیونکہ غیر ملکی قابض افواج کی جانب سے خواتین کی جنسی حراسگی کا عمل مسلسل جاری ہے ۔ سلامتی کونسل میں متنازعہ علاقوں میںجنسی تشدد کے حوالے سے ہونے والی بحث کے دوران پاکستانی سفیر نے اس بات کاخصوصی تذکرہ کیا کہ عالمی ادارہ متنازعہ علاقوں میں جنسی تشدد کو ختم کرنے کیلئے بین الاقوامی کاوشوں کی سرپرستی کر رہا ہے تاکہ خواتین اور بالخصوص نوجوان لڑکیوں پر ہونے والے جنسی تشدد کو خاتم کیا جا سکے ۔ انہوں نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ مقبوضہ افواج اپنے زیر تسلسط علاقو ں میں طاقت کے استعمال کو اپنی حکمت عملی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہوئے پرتشدد واقعات میں ملوث ہیں جس سے ان علاقوں کے عوام اور بالخصوص خواتین زیادہ متاثر ہوتی ہیں،میانمار سے لے کر ہمارے ہمسائے تک اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہیں اور بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے زیر تسلط علاقوں سے جنسی تشدد کے خاتمے اور طاقت کے استعمال کو روکے ۔ انہوں نے کہا کہ جنسی تشدد کے تنازعات کے خلاف ہمارے اقدامات جاری رہنے چاہئیں تاکہ ہم زیر تسلط علاقوں سے پرتشدد کارروائیوں کو ختم کرنے اور ان میں ملوث عناصر کو جواب دہ بنایا جاسکے، سیاسی و جغرافیائی مفادات کو اس سلسلے میں مقدم نہیں رکھنا چاہیے تاکہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برداری اپنا کردار موثر طور پر ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ امن اور سلامتی کے حوالے سے خواتین کے کردار کو زیادہ سے زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے جس کیلئے سلامتی کونسل میں بھی ان کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ امن و امان کے قیام اور مفاہمت کے فروغ کے حوالے سے خواتین کی شراکت داری کے ذریعے ان کے کردار کو وسعت دی جاسکے ،اس طرح ہم دنیا بھر میں امن کی کاوشوں کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنا سکیں گے ۔ انہوں نے دنیا میں امن و امان کے فروغ اور مفاہمت میں اضافے کے لیے زیادہ سے زیادہ خواتین کو اس عمل میں شامل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس حوالے سے خواتین کو بطور خصوصی نمائندہ اور سفیر بنایا جائے تاکہ ان کی مہارتوں سے استفادہ کیا جاسکے ۔ ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے امن عمل کے تناظر میں صنفی مساوات کے فروغ کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہم عالمی سطح پر امن کی کاوشوں کو مزید بڑھا سکیں گے اور تنازعات کے خاتمے کے بعد استحکام اور تعمیر نو کے مرحلوں میں بھی خواتین کی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا جاسکے گا۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ پاکستان عوامی جمہوریہ کانگو میں کام کرنے والے اپنے امن مشن میں آئندہ ماہ سے خواتین کو بھی شامل کر رہا ہے ، اس کے علاوہ پاکستان نے امن کے قیام کے بین الاقوامی مشنز میں اپنے افسروں پر مشتمل سٹاف میں 15 فیصد خواتین کی تعیناتی کا ہدف بھی حاصل کر لیا ہے ، اس سے سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں مرتب کی گئی حکمت عملی کے تحت پاکستان کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کی بھر پور ادائیگی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں ہمارے خصوصی ماہرین نے امن کے حصول کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور وہ خواتین سمیت متاثر آبادی کے تحفظ کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں ، ہماری امن افواج دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک اور پیچیدہ علاقوں میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ سلامتی کونسل سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دیگر ممالک کے مندوبین نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply