پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون (پشاور۔کراچی) ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا

اسلام آباد ۔ 28 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون (پشاور۔کراچی) ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا جس پر بیجنگ میں دستخط ہو گئے ہیں، اس معاہدے کے اگلے مرحلے میں پاکستان کی وزاتِ ریلوے اور چین کی نیشنل ریلوے ایڈمنسٹریشن ایم ایل ون منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کریںگے، منصوبے کی حتمی تعمیراتی لاگت طے کی جائیگی اور اس …

اسلام آباد ۔ 28 اپریل (اے پی پی) پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون (پشاور۔کراچی) ریل ٹریک کی اپ گریڈیشن کا معاہدہ طے پا گیا جس پر بیجنگ میں دستخط ہو گئے ہیں، اس معاہدے کے اگلے مرحلے میں پاکستان کی وزاتِ ریلوے اور چین کی نیشنل ریلوے ایڈمنسٹریشن ایم ایل ون منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کریںگے، منصوبے کی حتمی تعمیراتی لاگت طے کی جائیگی اور اس کی فنانسنگ کے حوالے سے دستیاب وسائل اور آپشنز پر حتمی معاہدے کیے جائیں گے۔ اتوار کو معاہدے پر پاکستان کی طرف سے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد جبکہ چین کی طرف سے پاکستان میں چین کے سفیر یاو¿ جِنگ نے ڈیکلیریشن برائے پریلمنری ڈیزائین منصوبہ فیز ون پشاور۔کراچی پر دستخط کئے۔ وزیر اعظم عمران خان اور چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ معاہدے پر دستخط کی تقریب موجود تھے۔ پشاور۔کراچی ایم ایل ون منصوبہ اگلے پانچ سال میں مکمل ہوگا جس کے تحت پشاور اور کراچی کے درمیان 1872 کلو میٹر لمبے ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائیگا۔ ریل ٹریل کی فینسگ سمیت پل اور کراسنگز بھی بنائی جائیں گی۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ٹرین کی اوسط سپیڈ 120 سے 160 کلو میٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ ابھی یہ سپیڈ اوسطاً 60 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ مسافر ٹرین راولپنڈی سے کراچی ریلوے اسٹیشن 10 گھنٹوں میں پہنچے گی۔ اس وقت تیز ترین راولپنڈی اور کراچی کے درمیان گرین لائین ہے جو 22 گھنٹوں میں پہنچتی ہے۔ راولپنڈی سے ٹرین صرف اڑھائی گھنٹے میں لاہور پہنچے گی۔ ایم ایل ون منصوبے سے ٹرینوں کی تعداد دوگنی ہو جائیگی۔ فریٹ شئیر 20 فیصد ہو جائیگا جو آج صرف 4 فیصد سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی معاشی صورت حال اور دیگر منصوبوں پر ایلوکیشن کی وجہ سے حکومت نے ایم ایل ون منصوبے کو مرحلہ وار 3 فیز میں ممکل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ حالیہ معاہدہ اس سلسلہ میں پہلے فیز کے لئے ہے۔ مکمل منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 8.2 ارب امریکی ڈالر ہے جسے 3 فیز میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی حتمی لاگت جون سے پہلے طے کر لی جائیگی تاکہ آئندہ بجٹ میں فیز ون کے لئے رقم مختص کر لی جائے۔ حالیہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 52 کلومیٹر لمبے کلو وال۔ پنڈورہ سیکشن کوسیدھا کیا جائے گا۔ اس سیکشن پر دوسری لائین بھی بچھائی جائیگی۔ 183 کلو میٹر لمبے نوابشاہ۔روہڑی سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ لاہور اور ملتان سیکشن میں ٹریک کو اپ گریڈ کرکے سپیڈ کو 120 کلو میٹر فی گھنٹہ لایا جائے گا۔ راولپنڈی۔پشاور کے درمیان ایک 160 کلو میٹر سیکشن کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور دوسری ریل لائین بچھائی جائے گی۔ والٹن ریلوے اکیڈمی کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ پاکستان ریلوے گوادر، کوئٹہ ، تفتان ایم ایل تھری اور ایم ایل ٹو کے ٹینڈر پہلے ہی جاری کر چکا ہے۔ یہ منصوبے بِلڈ، آپریٹ اور ٹرانسفر فارمولے پر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ صرف ایم ایل ون منصوبے سے 20 ہزار ڈائریکٹ اور ڈیڑھ لاکھ ان ڈائریکٹ نوکریاں دستیاب ہوںگی۔

مزید خبریں

Leave a Reply