اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت نے جنگلی حیات کے اعداد و شمار ان کو لاحق خطرات کے حوالے سے '' ریڈ ڈیٹا بک '' پر کام شروع کر دیا ہے، ماضی کے سیاستدانوں نے صحیح وقت پر درست فیصلہ نہیں کئے جس کی وجہ سے آج ملک مشکلات سے دوچار …
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا جنگلی حیات سروے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت نے جنگلی حیات کے اعداد و شمار ان کو لاحق خطرات کے حوالے سے ” ریڈ ڈیٹا بک ” پر کام شروع کر دیا ہے، ماضی کے سیاستدانوں نے صحیح وقت پر درست فیصلہ نہیں کئے جس کی وجہ سے آج ملک مشکلات سے دوچار ہے، انڈسٹریلائزیشن کی دوڑ میں قدرت کی طرف سے عطا کی گئی خوبصورتی تیزی سے ماند پڑ رہی ہے، جنگلی حیات کو بڑھانے کے لئے صوبے ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وزارت موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے ”ریڈ ڈیٹا بک” کی تیاری اور جنگلی حیات سروے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جو خوبصورت باغات سرسبزپہاڑی سلسلوں، تمام موسم اور زراعت کی تمام اجناس پیدا ہونے کی وجہ سے جنگلی حیات کے لئے جنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصے سے پاکستان میں جنگلی حیات کی تعداد میں کمی لاحق ہوئی ہے اور ماضی میں کئے گئے سروے قابل اعتبار نہیں ہیں اس وجہ سے وزارت موسمیاتی تبدیلی نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جنگلی حیات سروے شروع کردیا ہے تاکہ معتبر ڈیٹا اکٹھا کیا جائے جس میں تمام جنگلی جانوروں، پرندوں کو لاحق خطرات ان کی تعداد جمع کرکے ” ریڈ ڈیٹا بک” تیار کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نایاب جانوروں اور پرندوں کے شکار کے حوالے سے وزارت چاہتی ہے قانونی طور پر شکار کی تعداد میں کمی کی جائے تاکہ جنگلی حیات کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے کلین اینڈ گرین پاکستان، بلین سونامی ٹری منصوبوں کے علاوہ اب جنگلی حیات پر کام شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں لال سوہانرہ پارک کی طرح کے مزید پارکس بنائے جائیں جہاں پر جنگلی حیات میں اضافہ کیا جائے۔ زرتاج گل نے کہا کہ اگر ہم جائزہ لیں تو یہ پتہ چلتا ہے پاکستان میں آنے والے مسافر پرندوں کی تعداد میں واضح کمی ہو رہی ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے ہم قدرتی ماحول کو تباہ کر رہے ہیں کیونکہ انڈسٹریلائیزیشن کی دوڑ میں صحت افضاءمقامات کی خوبصورتی تیزی سے ماند پڑرہی ہے۔ فصلوں، پھلدار درختوں پر زہریلی سپرے کی وجہ سے بھی پرندے یہاں پر بجائے منتقل ہونے کے ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبے ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور اضافے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کئے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے سیاستدانوں نے صحیح وقت پر درست فیصلہ نہیں کیے جس کی وجہ سے ملک مشکلات کا شکار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جوانمردی سے فیصلے کر رہے ہیں اور وہ ملک کو ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ملک کا ایک اہم ستون ہے اس کے تعاون کے بغیر ہم کوئی بھی منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جنگلی حیات کے تحفظ ،صفائی ستھرائی اور شجرکاری جیسے اہم موضوعات پر عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے میڈیا اپنا کردار ادا کرے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری برائے موسمیاتی تبدیلی حسن ناصر جامی نے کہا کہ ہمیں اس سروے کی مدد سے پتہ چل سکے گا کہ ملک میں نایاب جانوروں، پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کی اصل تعداد کتنی ہے اور ان کے تحفظ کے لئے ہمیں کیا اقدامات کرنے چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہماری وزارت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی مرتبہ جنگلی حیاتیات پر سروے شروع کر رہی ہے۔ ورکشاپ سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔







