وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا اوتھل میں بلوچستان ریزیڈیشنل کالج اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ فار بوائیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب

لسبیلہ۔ 29اپریل (اے پی پی ) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم ہی سے صوبے کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں، اداروں کو ٹھیک کرنا ہے ہمارا نصب العین ہے، خاص کر ایجوکیشن، صحت، زراعت، لائیواسٹاک اور دیگر محکموں کو صحیح ڈگر پر لانا ہے،موجودہ حکومت ایسے 500 منصوبے جو آٹھ اور دس سالوں سے نامکمل ہیںکو اس جون تک مکملکرے …

لسبیلہ۔ 29اپریل (اے پی پی ) وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ جدید اور پیشہ ورانہ تعلیم ہی سے صوبے کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں، اداروں کو ٹھیک کرنا ہے ہمارا نصب العین ہے، خاص کر ایجوکیشن، صحت، زراعت، لائیواسٹاک اور دیگر محکموں کو صحیح ڈگر پر لانا ہے،موجودہ حکومت ایسے 500 منصوبے جو آٹھ اور دس سالوں سے نامکمل ہیںکو اس جون تک مکملکرے گی، بروقت تکمیل نہ ہونے سے ان منصوبوں کی تعمیراتی لاگت بھی بڑھ گئی ہے جبکہ عوام بھی ان منصوبوں کے ثمرات سے مستفید نہ ہوسکے، پیرکو اوتھل میں بلوچستان ریزیڈیشنل کالج اور گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ فار بوائیز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی ناقص منصوبہ بندی سے صوبے کے اکثر بڑے منصوبے ادھورے ہیں ،کئی سکیمیں کاغذوں میں تو مکمل ہیں لیکن جب کہ حقائق اس کے برعکس ہیں، عوام کے ٹیکس سے بنی سکیمیں آٹھ دس سالوں سے نامکمل ہیں،ہمارا مشن لوچستان کے عوام کے لیئے اجتماعی بڑی منصوبوں جیسے ڈیم،ٹرانسمیشن لائنز اور دیگر منصوبے صوبہ بنا کر ان کا معیار زندگی بلند کرنا ہے جب کہ چھوٹی سکیمیں ضلع اپنے وسائل سے بنائے گا، انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بیس سے پچیس ہزار آسامیاں اور دیگر محکموں میں بھی سینکڑوں آسامیاں خالی ہیں ان کو پُر کیا جائے گااورمزید آسامیاں پیدا کی جائیں گی جس سے بے روز گاری کا کسی حد تک خاتمہ ہوگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ اگر بلوچستان ریزیڈنشل کالج اور پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ 2005 ءمیں اپنے وقت پر مکمل ہوتے تو ان اداروں سے ایک ہزار بچہ ہنر مند ہوکر نکلتا اور صوبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا،انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 2003ءاور 2004ءکے بڑے بڑے منصوبے تاحال نامکمل ہیںصوبہ اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ عوام کے ٹیکس سے حاصل شدہ رقم کرپشن کا شکار ہو،ہم ان منصوبے کو بروقت تکمیل کریں گے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو، انہوں نے مزید کہا جب تک ہم احسن طریقے سے منصوبہ بندی نہیں کریں گے تب تک ترقی و خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا،ماضی کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیںپورے بلوچستان کی ترقی میری اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت ہرضلع کے پرائمری، مڈل، ہائی سکول بنائے گی جبکہ ہائی سکولز میں انٹرمیڈیٹ کلا سوں کا اجراءکیا جائے گا اور پرانی عمارتوں کو ٹھیک کرنے کے ساتھ ساتھ ان اسکولز کو تمام سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا ، آبادی کے بجائے رقبے کے لحاظ سے سکول بنائیں گے تاکہ دورافتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بچے بھی تعلیم حاصل کرسکیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ ضلع چاغی رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہے کہ پورا کے پی کے صوبہ اس میں سماسکتا ہے، ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ ہر ضلع کے اندر وسائل و مسائل دیکھ کر چھوٹی چھوٹی اسکیمیں ضلعی سطح پر بنائےں جائیں تاکہ لوگوں کی ضروریات ضلع میں ہی پوری ہوں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع میں ہسپتالز کو جدید سہولتوں سے مزین کرکے سرجنز تعینات کئے جائیں گے تاکہ غریب لوگ علاج معالجے اور سرجری کے لیئے کوئٹہ، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں علاج کے بجائے اپنے علاقے میں ہی اپنا علاج کرواکر لاکھوں روپے بچائیں، صوبے کا مستقبل روشن ہے۔ہمیں لوگوں کی زندگی میں خوشیاں لانی ہیںاگر ہم نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو قوم ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی،جام کمال خان نے کہا کہ صوبے بھر کے سیلاب اور برف باری سے متاثرین کی مدد کی جائے گی، اس موقعے پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو،صوبائی وزیر لائیواسٹاک مٹھاخان ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر احمد مینگل،سابق چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل لسبیلہ اکبر شیخ، وائس چیئرمین قادر بخش جاموٹ،ڈاکٹر تولہ رام لاسی اور تمام ضلعی افسران موجود تھے۔آخر میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ضلع لسبیلہ کے شہر لاکھڑا کو میونسپل کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا۔

مزید خبریں

Leave a Reply