وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کی نجی ٹی وی چینل سے بات چیت

اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی بدعنوانی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جبکہ ان دونوں کے فرنٹ مین کو تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا ، عدالت نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا انہیں روکنے کا فیصلہ کرے گی۔ پیر کو ایک …

اسلام آباد ۔ 29 اپریل (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی بدعنوانی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں جبکہ ان دونوں کے فرنٹ مین کو تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا ، عدالت نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے یا انہیں روکنے کا فیصلہ کرے گی۔ پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نواز شریف کی صحت کو دیکھنے والے ڈاکٹروں پر منحصر ہے۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بدعنوانی کے خلاف ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہباز اور سلمان کے فرنٹ مین کو تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا اور یہی وجہ ہے کہ شہباز کا خاندان مجھے ناپسند کرتا ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے لاکھوں ڈالرز کی ٹرانزکشنز کے خلاف تحقیقات کا عمل جاری ہے اور تین ماہ کے عرصے کے دوران اس طرح کے افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف کو ریلیف سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو طبی علاج کے لیے ملک سے باہر جانا چاہیئے یا انہیں پاکستان میں ہی رہنا چاہیئے۔

مزید خبریں

Leave a Reply