اسلام آباد ۔ یکم مئی (اے پی پی)پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا ہے کہ 27فروری 2019ء کو دشمن بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان ائرفورس کے ردعمل کو تاریخ میں ''آپریشن سوفٹ ری ٹارٹ'' کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پی اے ایف ہیڈ کوارٹرز میں 264ویں ائرسٹاف پریزینٹیشن کی تقریب سے خطاب …
فروری 2019ء کو دشمن بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان ائرفورس کے ردعمل کو تاریخ میں ”آپریشن سوفٹ ری ٹارٹ” کے نام سے یاد رکھا جائے گا،ا ئرچیف مارشل مجاہد انور خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم مئی (اے پی پی)پاک فضائیہ کے سربراہ ائرچیف مارشل مجاہد انور خان نے کہا ہے کہ 27فروری 2019ء کو دشمن بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان ائرفورس کے ردعمل کو تاریخ میں ”آپریشن سوفٹ ری ٹارٹ” کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پی اے ایف ہیڈ کوارٹرز میں 264ویں ائرسٹاف پریزینٹیشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق ائرچیف نے کہا کہ ہم انتہائی عاجزی سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارتی جارحیت کا موثر جواب دینے کا موقع فراہم کیا اور ہم قوم کی توقعات پر پورا اترے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کا سوفٹ ردعمل ہماری صلاحیتوں اور قابلیتوں کا عملی مظاہرہ تھا کہ ہم کسی بھی صورتحال کا بہتر مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم اور تیار ہیں۔ پاک فضائیہ کے اہلکاروں کے جذبہ کی تعریف کرتے ہوئے مجاہد انور خان نے کہا کہ پی اے ایف کا ہر آفیسر اور جوان خصوصی تعریف کا مستحق ہے۔ انہوں نے امتحان کی گھڑی میں فارورڈ آپریٹنگ بیسز پر تعینات عملہ کو مضبوط عزم، صبر اور حوصلے کا شاندار مظاہرہ کرنے پر سیلوٹ پیش کیا۔ بیان کے مطابق پاک فضائیہ کے سربراہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں ہمارا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہو گا۔ ائرچیف نے مختلف شعبوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔ اس موقع پر ” ٹریننگ اینڈ فلائیٹ سیفٹی” میں بہترین کارکردگی پر پی اے ایف بیس شہباز جبکہ پی اے ایف بیس مصحف کو ” سٹرانگ مین” ٹرافی کے اعزازات سے نوازا گیا۔ گرائونڈ سیفٹی کی ٹرافی پی اے ایف بیس پشاور کو دی گئی۔ پاک فضائیہ ہر تین ماہ کے بعد اپنی استعداد میں بہتری اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی پروگرام منعقد کرتی ہے۔







