وزیراعلیٰ نے ننکانہ صاحب، واربرٹن لیبر کالونی اور ہیلتھ کارڈ سکیم کا افتتاح کر دیا

لاہور۔یکم مئی(اے پی پی )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وار برٹن ضلع ننکانہ صاحب میں صنعتی کارکنوں کو رہائشی سہولتیں دینے کیلئے لیبر کالونی کا افتتاح کیا اور محنت کشوں میں فلیٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کئے۔ واربرٹن لیبر کالونی میں پہلے مرحلے میں 208فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے فلیٹس کا دورہ کرکے صنعتی کارکنوں کو فراہم کی جانے والی رہائشی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے …

لاہور۔یکم مئی(اے پی پی )وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وار برٹن ضلع ننکانہ صاحب میں صنعتی کارکنوں کو رہائشی سہولتیں دینے کیلئے لیبر کالونی کا افتتاح کیا اور محنت کشوں میں فلیٹس کے الاٹمنٹ لیٹرز تقسیم کئے۔ واربرٹن لیبر کالونی میں پہلے مرحلے میں 208فلیٹس تعمیر کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے فلیٹس کا دورہ کرکے صنعتی کارکنوں کو فراہم کی جانے والی رہائشی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے کارڈ تقسیم کرکے ننکانہ صحت میں صحت انصاف کارڈ سکیم کا بھی باقاعدہ آغاز کیا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ننکانہ صاحب میں بابا گورو نانک یونیورسٹی کیلئے 70 ایکڑ اراضی مختص کی جا چکی ہے اور یہ منصوبہ اگلے ترقیاتی بجٹ میں شامل ہوگا اورننکانہ صاحب میں پولیس لائنز، جیل، نیا لینڈ ریکارڈ سنٹر اور نادرا سنٹر بھی بنائیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر ضلع میں لیبر کالونی بنائیں گے۔ ملتان اور لاہور کی لیبر کالونیوں میں 1189 فلیٹس کی الاٹمنٹ بھی جلد شروع کی جائے گی۔ واربرٹن میں لیبر فلیٹس فیز 2 بھی بنایا جائے گا۔ ڈیرہ غازی خان، سرگودھا اور رحیم یار خان میں 50، 50 بیڈز کے سوشل سکیورٹی ہسپتال بھی بنائے جائیں گے۔ غیرہنرمند مزدور کی کم از کم تنخواہ ساڑھے 16 ہزار اور ہنرمند مزدور کی کم از کم تنخواہ 17 سے 19 ہزار روپے تک کر رہے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید کہا کہ وطن عزیز میں حکومتیں تو بدلتی رہیں مگر عام آدمی کے حالات نہ بدلے اوردوسروں کے گھر بنانے والا اپنی چھت کو ترستا رہا۔ماضی میں عام آدمی کو بری طرح نظر انداز کیا گیا اورعام آدمی کو روٹی، کپڑا اور مکان کے نام پر دھوکہ دیا گیا اور70 سال گزرنے کے باوجود بھی مزدور اپنے حق سے محروم ہے تو یقینا ماضی میں کوتاہیاں سرزد ہوئیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوں کا مرکز و محور عام آدمی ہے۔ غریب کی فلاح و بہبود کا ایجنڈا لے کر برسراقتدار آئے ہیں اور عام آدمی کی حالت کو بدلیں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ہمیں یہاں محنت کشوں کو208 فلیٹس فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ وعدے کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ابتدائی مرحلے میں محنت کشوں کو 1397 فلیٹس الاٹ کر رہے ہیں۔پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے صوبہ بھر میں مزید لیبر کالونیاں قائم کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت کشوں کے علاج معالجے کیلئے قائم سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں جدید اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کو مرحلہ وار ”سنٹر آف ایکسی لینس” بنایا جائے گا۔ کوٹ لکھپت کے سوشل سکیورٹی ہسپتال کے گائنی وارڈ کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔ سوشل سکیورٹی ہسپتالوں میں ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم لانے کیلئے شوکت خانم کینسر ہسپتال سے ایم او یو سائن ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر گرانٹ کے تحت میرج گرانٹ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے اورڈیتھ گرانٹ 5 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 65 سکولوں کے طلبہ کے والدین کو یونیفارم، جوتے اور سٹیشنری وغیرہ فراہم کرنے کی بجائے سمارٹ کارڈ کے ذریعے پے منٹ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت کش کی فلاح وبہبود پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے منشور میں سرفہرست ہے اورصوبائی کابینہ جامع پیکیج پر مشتمل پنجاب لیبر پالیسی 2018 کی منظوری دے چکی ہے۔نئی لیبر پالیسی کے تحت محنت کشوں کی فلاح و بہبود کیلئے موجودہ لیبر قوانین میں بھی ضروری ترامیم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ گھریلو ملازمین کو بطور لیبر ورکر تسلیم کیا گیا ہے اور پنجاب ڈومیسٹک ورکرز قانون2019 منظور ہو کر نافذ ہو چکا ہے۔ محنت کشوں کی صحت اور حفاظت کیلئے ”پنجاب ورک پلیس آکوپیشنل سیفٹی و ہیلتھ ایکٹ 2018” بھی آ چکا ہے جس کے تحت صوبہ بھر میں مشقت کی چکی میں پسنے والے بچوں کو چائلڈ لیبر سے نجات دلائیں گے اورچائلڈ لیبر کے شکار بچوں کیلئے تعلیم اور ٹیکنیکل ٹریننگ کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محنت کشوں کو معاوضے کی ادائیگی میں صنفی امتیاز کا خاتمہ یقینی بنائیں گے۔دکانوں اور صنعتی اداروں وغیرہ کی آن لائن رجسٹریشن مخصوص ویب پورٹل کے ذریعے ون کلک سے ممکن ہوگی۔ پنجاب میں آن لائن پے منٹ سسٹم سے پنشنروں کو دفتروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مزدوروں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے انشورنس سکیم لائی جا رہی ہے۔ محنت کشوں اور مزدوروں کی دادرسی کیلئے کمپلینٹ سیل بھی قائم کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ سکیم سے پنجاب بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 70 لاکھ خاندان اور ساڑھے تین کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ غریب ترین لوگ بھی اب اچھے نجی ہسپتالوں میں اعلیٰ ترین علاج کراسکیں گے محنت کش بھائیوں کو بھی صحت انصاف کارڈ مہیا کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شکاگو میں 133 سال قبل محنت کش کے حقوق کیلئے بلند ہونے والی آواز کی گونج پوری دنیا میں آج بھی سنائی دیتی ہے۔ محنت کشوں کی تقریب میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت محنت کشوں کے حقوق کی نگہبانی کرے گی۔ عام آدمی کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری کو فرض نہیں عبادت سمجھ کر پورا کریں گے۔ پناہ گاہیں بننے کے بعد مزدوروں کو سڑکوں اور چوراہوں پر رات بسر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ننکانہ صاحب میں 88 ہزار صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔ ریٹائرڈ مزدوروں کو بھی صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عثمان بزدار غریب پرور انسان ہیں اور وہ مسکرا کر مسئلے حل کرتے ہیں۔تقریب سے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور صوبائی وزراء ڈاکٹر یاسمین راشد، انصر مجید خان نیازی نے بھی خطاب کیا۔صوبائی وزیر اجمل چیمہ، میاں خالد محمود، اراکین اسمبلی میاں عاطف، خواجہ داؤد سلیمانی، شکیل شاہد، بلال ورک، شاہد منظوراور تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

مزید خبریں

Leave a Reply