لاہور۔یکم مئی(اے پی پی ) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے کہاہے کہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری سے صوبے میں انقلابی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ، نئے بلدیاتی نظام کے تحت جمہوریت کی حقیقی روح کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یقینی ہونے کے علاوہ وسائل کی یکساں تقسیم اور صوبے کے ہر علاقے کو ترقی …
صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری کی صوبائی وزیر بلدیات راجہ بشارت کے ہمراہ سینئر صحافیوں کو بریفنگ

مزید خبریں
لاہور۔یکم مئی(اے پی پی ) صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام علی بخاری نے کہاہے کہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے بل کی منظوری سے صوبے میں انقلابی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ، نئے بلدیاتی نظام کے تحت جمہوریت کی حقیقی روح کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یقینی ہونے کے علاوہ وسائل کی یکساں تقسیم اور صوبے کے ہر علاقے کو ترقی کے مساوی مواقع میسر ہوں گے ـان خیالات کااظہار انہو ں نے صوبائی وزیر بلدیات راجہ بشارت کے ہمراہ ایوان وزیراعلی میں سینئر صحافیوں کو نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پیش کئے گئے بل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کیا ـ بریفنگ میں وزیراعلی سردار عثمان احمد خان بزدار کی خصوصی وعوت پر پی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے بھی شرکت کی اور شرکاء کو نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل، طریقہ کار اور عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا ـ اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت نعمان لنگڑیال، صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان اور صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری، سیکرٹری بلدیات سیف انجم، سیکرٹری اطلاعات مومن آغا اور ڈی جی پی آر ڈاکٹر محمد اسلم ڈوگر بھی موجود تھے ـ سید صمصام علی بخاری نے صحافیو ں کو بتایاکہ پنجاب نئے بلدیاتی نظام کی تشکیل کے حوالے سے عمران خان کی سربراہی میں پندرہ سے زیادہ اجلاس منعقد ہوئے ـ پنجاب میں بھی ہر سطح پر نئے نظام کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور عمران خان کی ہدایت پر ہی نئے بلدیاتی نظام میں تحصیل اور شہروں میں ڈائریکٹ الیکشن کی شق شامل کی گئی ـ انہو ں نے کہاکہ اپوزیشن پہلے تو مشاورت کے عمل سے لا تعلق رہی تاہم جب یہ بل پیش کیاگیا تو انہو ں نے چار ترامیم پیش کیں جو قواعدوضوابط پر پورا نہ اترنے کے باوجود سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر بل میں شامل کرلی گئیں ـپی ٹی آئی کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین نے بتایاکہ نئے بلدیاتی اداروں کے میئر اپنی کابینہ بنا سکیں گے جس میں وہ ٹیکنوکریٹس بھی شامل کرنے کا اختیا ررکھتے ہیں تاہم ان ٹیکنو کریٹس کی تعداد کو محدود بنانے پر غور کیاجارہاہے ـنئے بلدیاتی نظام سے برادری ازم کا خاتمہ ہوجائے گا نئی لیڈرشپ ابھرے گی ـ دو تحصیلوں یا دو علاقوں کے درمیان پیدا ہونے والے کسی بھی تنازعے کا حل لوکل باڈیزکمیشن کے ذریعے کیاجائے گا جس میں اپوزیشن کی نمائندگی بھی ہوگی ـ تحصیل ناظم کے نیچے ہائی سکول تک تعلیمی ادارے ہوں گے ـ تحصیل ناظم اساتذہ کو ان کی اپنی تحصیلو ں میں تعینات کرنے کا اختیار رکھے گا ـ انہو ں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن نے اس بل کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے تاہم قانون سازی پنجاب اسمبلی کا حق ہے اور عدالتیں اسمبلی کو اس حق سے محروم نہیں رکھ سکتیں ـنئے بلدیاتی ادارو ں کی کیپسٹی بلڈنگ کے لئے انتظامی انتظامات کئے جائیں گے ـ ان اداروں کا پری آڈٹ ہوگا تمام صوبائی محکمے بلدیاتی اداروں کو سپورٹ کریں گے ـ شہروں میں پارکنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے شعبے بھی انہی اداروں کے تحت کام کریں گے ـ نئے بلدیاتی اداروں کا چارسطحوں پر احتساب کا نظام مرتب کیاگیاہے جبکہ ان اداروں کو گرانٹس کی فراہمی کیلئے چھ مختلف معیار جانچے جائیں گے ـنئے بلدیاتی نظام کے تحت صوبے میں پہلے سے بنی ہوئی کمپنیاں میئر کے نیچے کام کریں گی ـ عوام کو نئے بلدیاتی نظام سے روشناس کرانے اور طریقہ ہائے کار سمجھانے کے لئے عوامی سطح پر میڈیا کے ذریعے مہم چلائی جائے گی ـ ماضی میں مختلف حکومتوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی جبری طور پر لوکل گورنمنٹ کے ادارے بنائے مگر پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے الیکشن ہی اسی نعرے کی بنیاد پر لڑا اور عوام نے اس کو ان اداروں کے قیام کا مینڈیٹ دیا ـصوبائی وزیر بلدیات راجہ بشارت نے نئے بلدیاتی نظام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ نئے بلدیاتی نظام کو تقویت دینے کے لئے ہر شہر، قصبے او رتحصیل میں میئر کا براہ راست انتخاب ہوگا ـ ماضی میں کونسلرز کی محدود تعداد میئر کا انتخاب کرتی تھی جس سے بے شمار خرابیاں جنم لیتی تھیں اور کرپشن کے دروازے کھلتے تھے اس کے برعکس نئے نظام کے تحت براہ راست انتخاب میں میئر ووٹرز کی اکثریت کی بنیاد پر منتخب ہوگا جس سے جمہوری نظام مزید مضبوط ہوگا ـ انہو ں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں متعارف کرایاجانے والا اپنی طرزکا پہلا بلدیاتی نظام ہوگا جو استنبول او رلندن جیسے ترقی یافتہ شہروں میں عوام کی ضروریات کماحقہ پوری کررہاہے ـنئے بلدیاتی نظام کے دائرہ کار کے مطابق قائم ہونے والی ویلج کونسل کی اوسط آبادی 3500 ہوگی جبکہ سابقہ بلدیاتی نظام میں بنیادی یونٹ یونین کونسل کی اوسط آبادی 22 ہزار افراد تھی ـسابقہ نظام میں بلدیاتی ادارو ں کے لئے
مختص کئے گئے فنڈز عوامی مسائل پر خرچ ہونے کی بجائے حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کی نذر کردیئے جبکہ نئے بلدیاتی نظام میں ہر سال ترقیاتی بجٹ کا 30 سے 40فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو دیاجائے گا ـنئے بلدیاتی نظام کے تحت صوبے بھر میں 22ہزار ویلج کونسلز اور 2500سے زائد مقامی کونسلوں کی تشکیل عمل میں آئے گی جس سے دیہی او رمحلے کی سطح پر فیصلہ سازی اور بلدیاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی ـعلاوہ ازیں تحصیل اور شہرو ں کو ٹیکس جمع کرنے اور وصول شدہ آمدن کے خرچ کا اختیار حاصل ہوگا ـ صوبائی وزیر بلدیات نے کہاکہ نئے بلدیاتی نظام میں تعلیم اور بلدیاتی سروسز جیسے اہم ترین شعبے براہ راست عوام کی نگرانی میں آجائیں گے ـسیکرٹری بلدیات سیف انجم نے شرکاء کو بتایاکہ نئے بلدیاتی اداروں کے موثر احتساب کا میکانزم بھی نئے نظام میں شامل ہے جس کے تحت اوپن لسٹ سسٹم کے تحت پارٹی ووٹ کی درست نمائندگی اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا اہتمام کیاجائے گا ـمقامی حکومتوں کی کارکردگی کو آن لائن سسٹم کے تحت براہ راست عوام تک پہنچانے سے بھی ان ادارو ں کا احتساب ممکن ہوجائے گا ـپنجاب بلدیاتی ایکٹ 2019 کے تحت ہر کمیونٹی کو سیلف گورننس کا حق دیاگیاہے ـ2015 ء میں پنجاب کے 229 علاقے بلدیاتی نظام کے ماتحت تھے جبکہ اب ان علاقوں میں 143 مزید علاقے شامل کرکے یہ تعداد 372 تک پہنچا دی گئی ہے ـپنجاب بلدیاتی ایکٹ 2019ء کی روح سے تمام مقامی حکومتوں کو مالیاتی اعتبار سے زیادہ مضبوط اور با اختیار بنایاگیاہے اس ایکٹ کے تحت ان اداروں کو 400 ارب روپے جاری کئے جائیں گے ـجن کا 30 فیصد بلدیاتی سہولیات کی فراہمی کے لئے مختص ہوگا ـ علاوہ ازیں خود مختار صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے مقامی حکومتو ں کو اصولی بنیادو ں پر فنڈز فراہم کئے جائیں گے ـ راجہ بشارت نے بتایاکہ شہرو ں کی ترقی کے لئے وسائل کے بہتر او رموثر استعمال کے لئے ایل ڈی اے،ایم ڈی اے اور آر ڈی اے کے ساتھ ساتھ واسا اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے والی کمپنیاں بلدیاتی اداروں کے تحت کام کریں گی ـانفراسٹرکچر، سڑکیں، پرائمری، مڈل اور ہائی سکول کی سطح پر تعلیم، بنیادی صحت کی فراہمی اور ہنگامی حالات کی منصوبہ بندی کے شعبے بھی انہی بلدیاتی اداروں کی نگرانی میں کام کریں گے ـ نئے بلدیاتی نظام میں شہروں کے میئر ٹیکس کی وصولی کو منظم شکل دے کر شہر کی ترقی پر خرچ کرنے کا اختیار رکھیں گے ـصوبائی وزیر بلدیات نے مزید بتایاکہ سابقہ بلدیاتی نظام یونین کونسل ایک مصنوعی نظام تھا جو وقتا فوقتا تبدیل ہوتا رہا اب اسے مکمل طو رپر ختم کیاجارہاہے ـنئے نظام میں پنجاب کے ہر موضع اور شہری علاقے کو سیلف گورننس دی جائے گی ـ ویلج کونسل کے انتخابات اوپن لسٹ کی بنیاد پر منعقد کئے جائیں گے جس میں اکثریتی ووٹ لینے والا سربراہ مقررہ ہوگا جبکہ خواتین، کسانوں اور اقلیتی امیدواروں کا براہ راست انتخاب ہوگا ـ ماضی میں 22 ہزار اوسط آبادی پر مشتمل یونین کونسلوں کیلئے 14 ارب روپے سالانہ مختص کیاگیا جبکہ نئے نظام میں 3500 اوسط آبادی پر مشتمل ویلج کونسلوں کے لئے 40 ارب روپے سالانہ مختص کئے جائیں گے ـویلج کونسل کے فرائض میں پانی کی فراہمی اور نکاسی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ،سٹریٹ لائٹ، پیدائش، وفات اور نکاح رجسٹریشن، مقامی تنازعات کا حل، کمیونٹی کو متحرک کرنا، کھیلوں کا فروغ اور انرولمنٹ کمپین میں معاونت کرنا ہے ـنئے بلدیاتی نظام میں فنڈز کی فراہمی، فیصلہ سازی اور سہولیات کی فراہمی ہر مقامی سطح پر ممکن ہوگی اور صوبے میں ترقی، خوشحالی اور گڈ گورننس کے اس خواب کو تعبیر ملے گی جو قائد و اقبال نے پاکستان کے حوالے سے دیکھا تھا۔







