وزیر اعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل ‘انڈسٹریز کی زیر صدارت نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس

لاہور۔2 مئی(اے پی پی ) ایس ایم ا ی پالیسی کی نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل ، انڈسٹریز، پیداوار اور سرمایہ کاری عبد الر زاق دائود کی صدارت میں گزشتہ روز منعقدہ اجلاس کے دوران سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ''سمیڈا '' کے تحت تشکیل کردہ نئی '' ا یس ایم ا ی پالیسی2019'' کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر نعمان وزیر، وفاقی …

لاہور۔2 مئی(اے پی پی ) ایس ایم ا ی پالیسی کی نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے ٹیکسٹائل ، انڈسٹریز، پیداوار اور سرمایہ کاری عبد الر زاق دائود کی صدارت میں گزشتہ روز منعقدہ اجلاس کے دوران سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی ”سمیڈا ” کے تحت تشکیل کردہ نئی ” ا یس ایم ا ی پالیسی2019” کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینیٹر نعمان وزیر، وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار عامر اشرف خواجہ، چیئرمین ایس ای سی پی فرخ سبزواری، سٹیٹ بنک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمرحسنین اور سمیڈاکی جنرل منیجر پالیسی اینڈ پلاننگ نادیہ جہانگیر سیٹھ کے علاوہ وفاقی وزارت تجارت، خزانہ، ترقیات و منصوبہ بندی اور ایوانہائے صنعت و تجارت کے نمائندے موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کر تے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق دائود نے وسائل روزگار اور نئے کاروباروںکی افزائش میں ایس ایم ایز کے مرکز ی کردار کو سراہا اور ایس ایم ای سیکٹر کو درپیش مشکلات کی نشاندہی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ سمیڈا نے نئی ایس ایم ای پالیسی کاڈرافٹ موجودہ حکومت کی معاشی ترجیحات کے عین مطابق تشکیل دیا ہے اور یہ اداراہ ایس ایم ای ڈویلپمنٹ کے حوالے سے حکومتی ایجنڈ ہ کو عملی جامہ پہنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 99 فیصدی کاروباری ادارے ایس ایم ایز کے زمرے میں آتے ہیںجو سرکاری اداروں کی معاونت سے ملک میں معاشی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای پالیسی کا نیا ڈرافٹ ایس ایم ای سیکٹر کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا گیا ہے اور سٹیئرنگ کمیٹی کے ترمیمی تجاویز سے نیا پالیسی ڈرافٹ ایس ایم ایز کی امنگوں کے عین مطابق ڈھل جائے گا۔انہوںنے بتا یاکہ چین کے ساتھ طے پانے والے حالیہ ایف ٹی اے(فری ٹریڈ ایگریمنٹ) سے مقامی ایس ایم ایز کیلئے چینی منڈیوںتک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔اجلاس کے دوران وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار عامر اشرف خواجہ نے کہاکہ پاکستان کی ایس ایم ایز کو قومی اور عالمی منڈی میں مسابقت کی سکت بڑھانے کیلئے حکومتی مدد کی اشد ضرورت ہے’ سرکاری معاونت کے بغیرایس ایم ایز ، وسائل روزگار اور برآمدات کے فروغ میں اپنا کردار پوری طرح ادا نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے امید کی ایس ایم ای پالیسی2019 اس جانب ایک نمایاں پیش رفت ثابت ہوگی۔قبل ازیں سمیڈا کی جنرل منیجر پالیسی اینڈ پلاننگ نادیہ جہانگیر سیٹھ نے سٹیئرنگ کمیٹی کو ایس ایم ای پالیسی2019 کی کلیدی سفارشا ت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کا فروغ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا آسان ترین ذریعہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایس ایم ای پالیسی ،2019 کی تشکیل کے دوران کاروباری فضا کی بہتری، منڈیوں تک رسائی، نئے کاروباروں کی تشکیل اور انفراسٹرکچر کی فراہمی جیسے عوامل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سمیڈا کے ایکسٹرنل ریلیشنز ڈیپارٹمنت کے ہیڈ شہریار طاہر نے سٹیئرنگ کمیٹی کو بتا یا کہ قومی ایس ایم ای پالیسی کی تشکیل کیلئے درکار تکنیکی معاونت امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی طرف سے فراہم کی گئی ہے ۔ اس ادارے کے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ فرخ محبوب اور سینئر پالیسی ایڈوائزر مسٹر سلیمان غنی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا اور انکی ریسرچ ٹیم نے ایس ایم ای پالیسی کی تشکیل کے عمل میں اپنے کردار پر روشنی ڈالی جبکہ نیشنل سٹیئرنگ کمیٹی برائے ایس ایم ای پالیسی کے ممبران نے پالیسی میں شامل سفارشات کو مزید بہتر بنانے کیلئے تجاویز بھی پیش کیں’ان تجاویز کی روشنی میں ایس ایم ای پالیسی کے نئے ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے کے بعد بہت جلد ایس ایم ای پالیسی2019 کا باقاعدہ طور پر اعلان کر دیا جائے گا۔

مزید خبریں

Leave a Reply