اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملتان نے نیب کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا ہے، نیب میں اصلاحات کی گئی ہیں، نیب افسران بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اپنا قومی فرض سجھتے ہوئے اس کے خاتمے کے لئے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیب پیشہ واریت، شفافیت اور میرٹ پر …
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کا نیب ملتان میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب ملتان نے نیب کی مجموعی کارکردگی میں اہم کردار ادا کیا ہے، نیب میں اصلاحات کی گئی ہیں، نیب افسران بدعنوانی کے خلاف جنگ کو اپنا قومی فرض سجھتے ہوئے اس کے خاتمے کے لئے متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیب پیشہ واریت، شفافیت اور میرٹ پر عمل کرتے ہوئے بدعنوانی کے خاتمے اور اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہیں۔ نیب ملتان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نیب ملتان میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ انہوں نے نیب کو مزید موثر بنانے کے لئے طریقہ کار کو درست کیا ہے اور انسداد بدعنوانی کی فعال حکمت عملی مرتب کی ہے جس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کے دور میں اس کے طریقہ کار کو مزید فعال بنانے کے لئے نئے اقدامات کئے گئے جن کے شاندار نتائج سامنے آئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیب کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران کی انتھک محنت قابل تعریف ہے۔ قوم پیشہ واریت، شفافیت اور قانون کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے والے نیب افسران پر فخر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 4300 ملین روپے وصول کرلئے ہیں۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک 303 ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں جو کہ پاکستان کے انسداد بدعنوانی کے ادارے کی ریکارڈ کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب میگا کرپشن وائٹ کالر کرائم کو منطقی انجام تک پہنچانے کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے شکایت کی جانچ پڑتال، انکوائری، انوسٹی گیشن، متعلقہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ 10 ماہ کا وقت مقرر کیا ہے۔ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر، انوسٹی گیشن آفیسر اور سینئر لیگل کونسل پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے۔ اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے نتائج بہت حوصلہ افزاء ہیں۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان عتیق الرحمان نے نیب ملتان کی کارکردگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب ملتان چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں بلا امتیاز زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عمل درآمد کے ذریعے بدعنوانی کے خاتمہ کے کاز کی موثر پیروی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چیئرمین نیب کی دانش مندانہ قیادت سے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب ہم اپنے ادارے کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں اور ہماری نوجوان نسل کا مستقبل شاندار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جیسی قیادت سے ادارے اپنے اہداف کے حصول کے لئے درست سمت پر گامزن ہوتے ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب ملتان نیب کا اہم علاقائی بیورو ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل نیب ملتان عتیق الرحمان کی سربراہی میں نیب ملتان کی کارکردگی کی تعریف کی اور ہدایت کی کہ نیب ملتان کے تمام افسران ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے مزید چوکس اور ایماندارانہ طریقے سے کام کریں۔







