اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں ہر فرد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ماحولیاتی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو پیر …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ”آفات کی پیشنگوئی اور مینجمنٹ کے لئے آئی سی ٹی کے کردار” کے بارے میں تین روزہ علاقائی ورکشاپ سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مئی (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قدرتی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضمن میں ہر فرد کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، ماحولیاتی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں ”آفات کی پیشنگوئی اور مینجمنٹ کے لئے آئی سی ٹی کے کردار” کے بارے میں تین روزہ علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان اور اسلامی ممالک کے نیٹ ورک آف اکیڈمیز آف سائنسز کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خالد محمود خان اور اسلامی، تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (آئیسیسکو) کے ڈائریکٹر سائنس ڈاکٹر نبیل انور بھی تقریب میں موجود تھے۔ صدر نے کہا کہ فضاء میں گیسز کا قدرتی توازن موجود ہوتا ہے جو آلودگی سے متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مکنیکل اور دیگر عوامل سے فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے اور یہ قدرتی توازن کو نقصان پہنچانے کا ایک بڑا موجب ہے۔ انہوں نے ملک میں مزید شجرکاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت ایسی واحد قدرتی فیکٹری ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک بھر میں 10 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جس سے ماحولیاتی مسائل سے بڑی حد تک نبرد آزما ہونے میں مدد ملے گی۔ صدر نے جامعات میں تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافے اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل کی روک تھام کے لئے جدید رجحانات اور ٹیکنالوجیز کو متعارف کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی سیٹلائیٹس کے ذریعے جدید ترین امیجنگ نظام سے زیر زمین پانی اور اراضی کی ہئیت کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ساز و سامان کے ساتھ دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کے لئے آئی سی ٹی کے شعبہ میں مربوط کوششیں درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح پر ہر ایک کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ پلاسٹک فضلہ اور لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ سمندر میں پھینکا جا رہا ہے، اگر ہم پلاسٹک ویسٹ کو سمندر میں پھینکنا بند کر دیں تو اس سے سمندری حیات کی بقاء میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مخلوق ایک دوسرے سے استفادہ کرتی ہے اور جدید ترین تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ کیڑے مکوڑوں کی مختلف اقسام کی افرائش میں کمی آئی ہے جس سے ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے۔







