اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) تھلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر وزارت قومی صحت ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن نے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے تحت خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں، والدین ،مقامی بلڈ بینکس اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں نے بلڈ ٹرانسفیوژن اور طبی علاج کی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجودبھر پور زندگی گزارنے …
تھلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تقریب کا اہتمام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 3 مئی (اے پی پی) تھلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر وزارت قومی صحت ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن نے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے تحت خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں، والدین ،مقامی بلڈ بینکس اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی تھلیسیمیا سے متاثرہ بچوں نے بلڈ ٹرانسفیوژن اور طبی علاج کی مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجودبھر پور زندگی گزارنے کے عزم کا اظہار کیا اور ٹیبلو، گیت، رقص کے ساتھ بھرپور عملی مظاہرہ کیا اور یہ تاثر دیا کہ وہ عام زندگی گزانے میں کوئی ہچکٹاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ دنیا بھر میں تھلیسیمیا کا دن ہر سال3 مئی کو منایاجاتا ہے۔ جس کا مقصد تھلیسیمیا کی روک تھام اورعلاج معالجہ کے انتظام کے بارے میں آگاہی دینا ہے ۔ اپنے خطاب میں سیف بلڈ ٹرانسفیوژن پروگرام کے نیشنل کوآرڈینٹر پروفیسر حسن عباس ظہیر نے تھلیسیمیا کے مریضوں کے لئے بروقت خون مہیا کرنے اور سیف بلڈ ٹرانسفیوڑن تک رسائی حاصل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ خون کے شعبہ میں ہونے والی ان اصلاحات کا زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں تھلیسیمیا کے مریض شامل ہیں۔ پروفیسر ظہیر نے ان علاقائی ممالک کا بھی ذکر کیا جنہوں نے کامیابی سے تھلیسیمیا قوانین بنائے اور ان پر عمل درآمد کرکے اس بیماری کو اپنے ملک سے ختم کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو بھی ایسے قوانین کی ضرورت ہے تاکہ تھلیسیمیا کے مزید مریضوں کی پیدائش کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تھلیسیمیا مریضوں کو بااختیار بنانے اور ان کی آواز بننے کے لئے قومی پلیٹ فارم قائم کرنا لازمی ہے تاکہ وہ اپنے تجربات اور حکومت اور معاشرے سے وابستہ اپنی امیدوں کا اظہار کرسکیں۔







