معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا پراپرٹی ڈیلرز کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک منتخب حکومت کو گرانے کی سازش کرنے کا اعتراف کرنے والے حقیقت میں آئین کے تحت بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں، اقتدار کے لئے جمہوریت کا نعرہ لگانے، سیاسی انتشار اور افراتفری پھیلانے والا ٹولہ 2023 تک اپنی باری کا …

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک منتخب حکومت کو گرانے کی سازش کرنے کا اعتراف کرنے والے حقیقت میں آئین کے تحت بغاوت کے مرتکب ہوئے ہیں، اقتدار کے لئے جمہوریت کا نعرہ لگانے، سیاسی انتشار اور افراتفری پھیلانے والا ٹولہ 2023 تک اپنی باری کا انتظار کرے ،2023 کے آئندہ الیکشن میں عوام ان کی سیاست اور ہماری خدمت کو دیکھ کر فیصلہ کرینگے ، وزیراعظم عمران خان نے عوام سے جو بھی وعدے کیے وہ پورے ہورہے ہیں ،عوام کو ریلیف دینے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے منگل کو کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے ، وزیراعظم عمران خان نے رئیل سٹیٹ، ہاﺅسنگ اور کنسٹرکشن کے شعبے کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کی منظوری دیدی ہے، جب ادارے مضبوط ،قانون طاقتور ہوگا تو افراد اور ادارے استحصال نہیں کرسکیں گے، رئیل سٹیٹ شعبے کو مایوسیوں سے نکال کر امید میں بدل رہے ہیں،حکومت اس شعبے کی سرپرستی کر کے اسے مزید طاقت دے گی، حکومت پراپرٹی اور تعمیراتی امور کے حوالے سے علیحدہ ٹربیونل بنانے جارہی ہے، ملکی معیشت کی ترقی کے لئے ہر ممکن ریلیف اور سہولیات کی فراہمی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے،تارکین وطن پہلی مرتبہ بے داغ قیادت پر اعتماد کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔وہ پیر کو یہاں پراپرٹی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداراوں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر رہیں تھیں۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے نومتخب اراکین، عہدیداران اور ملک بھر سے آنے والے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے نمائندوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلانے والے یہ لوگ عوام کو چھت فراہم کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تنظیم میں اتحاد بہت اہم ہوتا ہے ،جو متحد ہوتے ہیں وہ اپنی برادری کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکتے ہیں اور اپنی آواز ہر فورم تک پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں، انہی کی آواز کو سن کر آج کی تقریب میں شریک ہوئی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے 50ہزار خاندانوں کو روزگار کا تحفظ ہورہا ہے، اللہ تعالی اس شعبے کی ترقی کے لئے بہت سے وسیلے پیدا کرے گا، حکومت اس شعبے کے چینلجز سے نمٹنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک لوگوں کے مطالبات پر موجودہ حکومت نے بلٹ اپ کیپٹل ٹیکس کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ گین ٹیکس دو فیصد سے ایک فیصد کیا اور رئیل سٹیٹ کے ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل بنایا کہ جائیداد کی ویلیو طے کرنے کا عمل شروع کیا گیا ،اس تنظیم کے عہدیداران کی جلد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی ایسوسی ایشن عوام کو دلفریب خواب دکھا کرکاغذوں میں پلاٹ بیچ کر اپنے ہاتھ صاف کرنے والی کالی بھیڑوں کے خلاف بھی کارروائی کرے ۔ انہوں نے کہا کہ غریب ،پسے ہوئے طبقات کو چھت فراہم کرنے کا منصوبہ وزیراعظم کے دل کے قریب، وزیرا عظم نے وعدہ کیا کہ غریب اور پسے ہوئے طبقات کا نگہان اور سائبان بنوں گا اور بے گھر لوگوں کو چھت فراہم کروں گا، اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تارکین وطن پہلی مرتبہ بے داغ قیادت پر اعتماد کرکے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، وزیراعظم نے ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ امور کو بہتر کرنے کے لئے سی ڈی اے کو دو حصوں میں تقسیم کیا، ماضی میں اس ادارے میں بھی کرپشن کا وائرس متحرک تھا اور لوگوں کے جائز کام اور حقوق پورے نہیں ہو پا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ رئیل سٹیٹ شعبے کو یقین دلاتے ہیں کہ وزیراعظم معیشت کی ترقی ،خوشحالی اور استحکام کے لئے اس شعبے کو ہر اول دستہ قرار دیتے ہیں، بیرون ملک بیٹھے ہوئے پاکستانی جو پاکستان میں گھر بنانا چاہتے ہےں یا پلاٹ لینا چاہتے ہیں ، ان کے سامنے فوکل پرس پراپرٹی ڈیلر ہوتا ہے ،اسی لئے اس شعبے کا ساتھ دے رہے ہیں ،جائز سہولت کاری اور اس کے ساتھ جڑے ہاﺅسنگ سیکٹر اور تعمیراتی صنعت کے لئے بھی کام کررہے ہیں۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ کی منظوری دیدی ہے، ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے پاس کرانے جارہے ہیں ،ان شعبوں کے مسائل کے حل کے لئے یہ بورڈ سنگ میل ثابت ہوگا ، پہلی دفعہ اس نوعیت کا بورڈ بن رہا ہے جس میں پرائیویٹ سیکٹر کے لوگ بیٹھ کر اس صنعت اور دیگر صنعتوں کو چلانے میں حصہ دار بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پراپرٹی اور تعمیراتی امور کے حوالے سے علیحدہ ٹربیونل بنارہی ہے تا کہ سپیڈی ٹرائل ہو اور کیسز جلد نمٹائے جاسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں موٹیگیج کا نظام ہے ،مالیاتی ادارے اس نظام کے لئے تعاون کرتے ہیں، حکومت اس شعبے کو بینکنگ سیکٹر کے ساتھ منسلک کرنے جارہی ہے تاکہ ہاﺅسنگ کے شعبے میں چینلجز کم کرنے میں مدد ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ این او سی کے لئے مختلف اداروں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں ،ایک منظوری کے لئے متعدد دروازوں پر دستک دینا پڑتی تھی ،حکومت نے کاروبار میں آسانی کے لئے ون ونڈو آپریشن متعارف کرارہی ہے ، جس میں ملک کے کسی حصے میں بیٹھا ہوا پراپرٹی ڈیلر یا منسلک لوگ این او سی لینا چاہتے ہیں تو وہ ڈیجٹلائز سسٹم سے درخواست دے سکے گا ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں مشاورت کے بغیر رئیل سٹیٹ پر ریگولیشنز عائد کیں جس سے یہ کاروبار رک گیا، اس شعبے کا انوسٹر چینی ،گندم ،دالوں کا انوسٹر بن گیا، حکومت جو ٹیکس لے رہی تھی اس میں بھی کمی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آج کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک حکمت عملی لیکر آرہے ہیں، وزیراعظم کا دل ہر اس شخص کے دل کے ساتھ ڈھڑکتا ہے جو پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کررہا ہے، ہم نے رابطے کے لئے پل کا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اداکار جان بوجھ کا ایسا ماحول اور بیانیہ چلا رہا ہے جس کا مقصد عوام میں مایوسی پھیلانا ہے ،وہ لوگ میڈیا میں اپنا چورن بنا کر بیچتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کنٹینر پر بیٹھ کر حکومت جانے، ڈیڈ لائن دینے والے سن لیں، اب اپنا ترانا تبدیل کرلیں ،اب مولانا جارہا ہے والا ترانا ہونا چاہیے ، عوام نے پرانے ترانے کو اسلام آباد سے مسترد کر کے بھیجا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام سیاسی پنجہ آزمائی سے تنگ آچکے ہیں۔ عوام چاہتی ہے کہ حکومت خدمات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے ، سیاسی انتشار اور افراتفری پھیلانے والا ٹولہ 2023تک اپنی باری کا انتظار کرے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بہتری کے لئے وزیراعظم عمران خان کا ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اسکے بعد عوام 2023میں تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر فیصلہ کرینگے۔