وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی کا اپف پی سی سی آئی میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب

کراچی۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز ملک کا اثاثہ ہیں کیونکہ وہ23 ارب ڈالر سالانہ پاکستان بھیجتے ہیں، بیرون ملک تعینات کمرشل کونسلرز کو کارکردگی بہتر کرنے کیلئے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اپف پی سی سی آئی) میں تاجروں اور صنعتکاروں …

کراچی۔ 10 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیز ملک کا اثاثہ ہیں کیونکہ وہ23 ارب ڈالر سالانہ پاکستان بھیجتے ہیں، بیرون ملک تعینات کمرشل کونسلرز کو کارکردگی بہتر کرنے کیلئے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (اپف پی سی سی آئی) میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر انجم نثار، دیگر عہدیداران اور اراکین بھی موجود تھے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزارت خارجہ نئی منڈیوں تک رسائی کے لئے مزید 44 ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، سی پیک فیز ٹو کے حوالے سے چین کے ساتھ نئے معاہدے کئے ہیں جن میں زراعت کے شعبے میں بہتری، انڈسٹرلائزیشن اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے سرکلر ڈیٹ 38 ارب ماہانہ تھا جو کم ہو کر 12 ارب روپے تک آگیا ہے۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن کے علاوہ اکنامک ڈپلومیسی پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیروبی میں کامیاب اکنامک کانفرنس منعقد کروائی۔ شاہ محمود قریشی نے تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ باہمی طور پر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد معاشی استحکام کے لئے پاکستان کے خارجہ امور میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں سوچ کا انداز بھی بدل رہا ہے، مانگنے والوںکی طرف دنیا کی توجہ نہیں ہے، آبادی کے لحاظ سے ہندوستان بڑی تجارتی منڈی ہے، مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہورہی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، بھارتی اقدامات نے مقبوضہ کشمیر کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے، اب تک کشمیر میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، 4 لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں، کئی لوگ کشمیر میں بینک ڈیفالٹ کرچکے ہیں، بھارت کی کشمیر میں ظلم و بربریت کے اثرات نمایاں ہورہے ہیں۔ وزیرخارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت اپنے اندرونی حالات چھپانے کیلئے دوبارہ پلوامہ جیسا ڈرامہ رچائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں بہتری تک روزگار کے مواقع نہیں بڑھیں گے اور اس وقت تک پاکستان مشکل معاشی صورتحال سے نہیں نکل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اکنامک ڈپلومیسی سے ہی ہم ملک میں بہتری لاسکتے ہیں، پاکستان میں ایک عرصے سے ڈی انڈسٹریلائزیشن ہورہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار کے لئے جامع منصوبندی کی ضرورت ہے، پاکستان پہلے کاٹن ایکسپورٹ کرتا تھا لیکن آج ہم امپورٹ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی پر تنقید نہیں کررہا لیکن اب ہمیں زرعی شعبے کی بہتری کیلئے کام کرنا ہے، ڈیڑھ سال میں ہم نے سیکھا اور دیکھا بھی ہے، اکنامک انڈیکیٹرز اور زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہورہے تھے لیکن اب زرمبادلہ کے ذخائر بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بجلی کی قیمت بڑھے گی تو یقینا مال کی لاگت میں اضافہ ہوگا، سرکلر ڈیٹ پہلے 38ارب ماہانہ بڑھ رہا تھا اب 12ارب روپے پر آگیا ہے، ہماری کوشش ہے کہ اسے صفر پرلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن پر ہم نے کوئی توجہ نہیں دی، ٹیکسٹائل اسپننگ کا شعبہ جو کمارہا تھا صرف اس میں سرمایہ کاری کی گئی، من حیث القوم ہمیں اپنے رویہ اور سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جیسے مرضی پالیسی بنالے جب تک کاروباری طبقہ مطمئن نہیں ہوگاہم آگے نہیں بڑھ سکتے، فارن آفس میں نئی منڈیوں کی تلاش کیلئے علیحدہ سیکشن قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ میں انجینئرنگ سیکٹر اور ٹریکٹر کی مارکیٹ ہے لیکن ہم نے اس سیکٹر میں کام نہیں کیا، جب بہت سے فیصلے معاشی نہیں سیاسی بنیادوں پر کریں گے تونقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے سفارتکاری کے ذریعے اربوں ڈالر حاصل کئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں آج مہنگائی کا سامنا ہے، آج ہم خوردنی تیل مکمل طور پر امپورٹ کررہے ہیں، ہم پاکستان میں اس کی پیداوار کیوں نہیں کرسکتے، چین کے ساتھ ہم ان معاملات پر معاہدہ کررہے ہیں جس سے ہماری پیداواری صلاحیت کو بہتر کرنے میں مدد کرے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پہلے سی پیک میں انرجی پر فوکس تھا لیکن اب سی پیک فیز ٹو کے معاہدے میں ہماری ترجیحات انڈسٹریلائزیشن اور ٹیکنالوجی ہے۔ قبل ازیں صدر فیڈریشن پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز انجم نثار نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی ملک بھر کے چیمبرز کا نمائندہ چیمبر ہے، ملکی سطح پر معیشت سے متعلق ہماری کمیٹیاں موجود ہیں، بجٹ میں فیڈریشن ہاﺅس کی سفارشات کوشامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ظلم و بربریت کے خلاف وزیراعظم اور آپ نے جس طرح مقدمہ لڑا وہ قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری امپورٹ اور ایکسپورٹ کے درمیان کافی فرق ہے، کرنسی کی قدر اگر مستحکم رہے گی تو ہمیں کاروباری آسانیاں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم ممالک میں ہماری مصنوعات ایکسپورٹ ہورہی ہیں جسے بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انجم نثار نے دنیا سے مقابلہ کرنے کیلئے ٹریڈ ڈپلومیسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کاسٹ آف ڈوئنگ بزنس بہت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مشکلات درپیش ہیں، جلد لاہور اور فیصل آباد میں انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔