مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی ہے کہ وہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے صوبوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کرے‘ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم کے خصوصی پیکج برائے ”سکل فار آل سٹریٹجی“ کے لئے 3300 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی …

اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی ہے کہ وہ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے صوبوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کرے‘ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم کے خصوصی پیکج برائے ”سکل فار آل سٹریٹجی“ کے لئے 3300 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دے دی۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مالی سال 2019-20ءکے لئے وزیراعظم کے خصوصی پیکج برائے ”سکل فار آل سٹریٹجی“ کے لئے 3300 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دے دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آئی ایس جی ایس کو فنڈز کی فراہمی کی سہولت برقرار رکھنے کی بھی منظوری دی۔ آئی ایس جی ایس اور گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے درمیان قرض کے معاہدے کو ایک سال کی مدت کے لئے منظور کیا جائے گا۔ مستقبل میں اس کی توسیع پراجیکٹ پر پیشرفت اور پہلے پراجیکٹ کے کلوژر سے مشروط ہوگی۔ کلوژر کے بعد آئی ایس جی ایس مالی طور پر خودکفالت حاصل کرنے کی ذمہ دار ہوگی اور وہ بزنس پلان اور قرضے کی واپسی کا پروگرام بھی دے گی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کو وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے ملک میں چینی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے تاہم اندرون ملک اور بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اندرون ملک چینی کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے لئے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چینی کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے۔ ای سی سی نے ہدایت کی کہ چینی کے ذخائر میں خاطر خواہ کمی کی صورت میں ای سی سی چینی کی درآمد پر غور کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ درآمد پر ٹیرف اور ٹیکسوں کے خاتمے پر غور کرے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے تمام اراکین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک میں چینی کی وافر مقدار موجود ہے اور فی الوقت چینی کی درآمد کی ضرورت نہیں ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ملوں کے پاس 1.719 ملین ٹن چینی کے ذخائر موجود ہیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کو ہدایت کی کہ وہ صوبوں کے ساتھ چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے حوالے سے بات چیت کرے کیونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ وزارت قانون و انصاف کی درخواست پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک ملین امریکی ڈالر کے مساوی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی۔ یہ گرانٹ ریکوڈک کیس کے ضمن میں قانونی اور دیگر اخراجات کے ضمن میں ادا کی جائے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بریفنگ دینے کی بھی ہدایت کردی۔