اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس میں صنفی امتیاز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔ 11 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے زور دیا ہے کہ 21 ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس میں خواتین کی ترقی کے لیے کوششیں اور صنفی امتیاز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے سائنس میں لڑکیوں اور خواتین کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہی۔ انہوں نے …

اقوام متحدہ۔ 11 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے زور دیا ہے کہ 21 ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنس میں خواتین کی ترقی کے لیے کوششیں اور صنفی امتیاز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے سائنس میں لڑکیوں اور خواتین کے بین الاقوامی دن کے حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک وڈیو پیغام میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کا شعبہ باہمی تعاون سے متعلق نظم و ضبط ہے جو صنفی فرق کی وجہ سے پیچھے رہ گیا ہے، لڑکے اور لڑکیاں سائنس اور ریاضیات میں یکساں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اعلی تعلیم میں بہت کم طالبات سائنس کا انتخاب کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے خواتین سائنس دانوں اور محقیقین کے کیریئر کی حمایت کرتے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے اصول کے تحت کمپنیوں اور دیگر اداروں کے لیے رہنمائی پیش کی اور اس کے لیے رواں سال ہمیں بیجنگ ڈیکلیریشن اینڈ پلیٹ فارم فار ایکشن معاہدہ کی 25 ویں سالگرہ پر سائنس کی تعلیم، ٹریننگ اور ملازمتوں میں خواتین اور لڑکیوں کی رسائی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت خواتین محقیقین کی تعداد 30 فیصد سے بھی کم ہے، عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پروفیشنلز میں صرف ایک چوتھائی خواتین ہیں۔