وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کاقومی اسمبلی میں ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بحث کے دوران خواجہ محمد آصف اور بلاول بھٹو زرداری کے نکات کا جواب

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر درست سمت دے دی ہے‘ ملک میں امن بحال کرکے ٹورازم کو فروغ دیا ہے‘ موجودہ حکومت سستی اور ماحول دوست توانائی کی پالیسی بنا رہی ہے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی تو ملک میں کارخانے لگیں گے‘ اب یہ ثمرات پاکستانی …

اسلام آباد ۔ 11 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ ہم نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر درست سمت دے دی ہے‘ ملک میں امن بحال کرکے ٹورازم کو فروغ دیا ہے‘ موجودہ حکومت سستی اور ماحول دوست توانائی کی پالیسی بنا رہی ہے‘ غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی تو ملک میں کارخانے لگیں گے‘ اب یہ ثمرات پاکستانی قوم تک پہنچائیں گے ۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ملکی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بحث کے دوران خواجہ محمد آصف اور بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا کہ فرزند زرداری نے اپنی تقریر کا آغاز چھوٹے وزیروں کے ذکر سے کیا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم وصیت اور پرچی لہرا کر سیاست میں نہیں آئے بلکہ محنت کرکے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری گھنٹوں یہاں تقریریں کرتے ہیں اور پھر ایوان سے بھاگ جاتے ہیں۔ سندھ اور لاڑکانہ کو کتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی اور ہمیں پہلے دن جو پریزنٹیشن دی گئی اس کے مطابق ملک پر 24 ہزارارب روپے کا قرضہ تھا۔ پی آئی اے‘ ریلوے‘ سٹیل ملز سمیت تمام ادارے خسارے میں تھے۔ گردشی قرضہ 1400 ارب روپے تک پہنچا ہوا تھا۔ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو گروی رکھا تھا۔ حسابات جاریہ کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے حسابات جاریہ کے خسارے میں پہلے سال 13ارب ڈالر کی کمی کی۔ ماضی کے حکمرانوں نے ہمارے سروں پر ایف اے ٹی ایف کی تلوار لہرائی تھی۔ پاکستان مشکل میں تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پی آئی اے کے خسارے میں 63 فیصد کمی کی۔ پاکستان سٹیل ملز بحال ہو رہی ہے۔ این ایچ اے منافع میں جارہی ہے۔ پاکستان پوسٹ بھی منافع کما رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ حکومتوں نے جو قرضے لئے تھے اس کی سود کی مد میں موجودہ حکومت نے دس ارب ڈالر واپس کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں خواجہ آصف پانی و بجلی کے وزیر بنائے گئے۔ انہوں نے پہلے ماہ میں گردشی قرضے کی مد میں بغیر آڈٹ کے 480 ارب روپے کی ادائیگی کی اور یہ ملکی کرپشن کا سب سے بڑا کیس بن گیا۔ ماضی کی حکومتوں نے بجلی کی پیداوار کے مہنگے منصوبے بنا کر قوم کے گلے میں پھندا ڈالا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی آبزرویشن اور سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی رپورٹیں اس حوالے سے موجود ہیں کہ کس طرح ان معاہدوں میں بے ضابطگیاں کی گئیں۔ ان معاہدوں کے تحت 25 سالوں تک آئی پی پیز کو 452 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کرنی ہے۔ یہ سارے کرتوت خواجہ آصف کے ہیں اور سوال ہم سے کرتا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح قطر سے ایل این جی کا مشکوک معاہدہ کیا گیا۔ اس میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس معاہدے کے تحت اگر ٹرمینل استعمال ہو نہ ہو حکومت دو لاکھ 72 ہزار ڈالر یومیہ ادائیگی کی ذمہ دار ہے۔ ٹرمینل پر جب گیس آتی ہے تو آٹھ دن تک یہ قابل استعمال نہیں رہتی۔ ان آٹھ دنوں کا خرچہ بھی پاکستانی قوم ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ معاہدے ہو رہے تھے تو یہ ایک دوسرے کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے تھے وہ اس کا سارا ریکارڈ موجود ہے۔ ایک دوسرے کو یہ چور قرار دے رہے تھے۔ دونوں سچ بول رہے تھے چونکہ ان پر کیسز تھے اس لئے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر یہ خاموش ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ وصیت اور پرچی لے کر جو سیاست کرتا ہے اسے سلیکٹڈ کی بات نہیں کرنی چاہیے۔ عمران خان ویژنری لیڈر ہے۔ 27 اکتوبر 2016ءکو عمران خان نے پریس کانفرنس میں انہی کے سارے معاہدے قوم کے سامنے رکھے اور قوم کے سامنے واضح کیا کہ اگر یہ معاہدے ہوئے تو ان کا خمیازہ ہم 25 سال تک بھگتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آڈٹ اور انکوائری کمیٹی بنائی ہے اس کی رپورٹ تیار ہے۔ شاہد خاقان عباسی جیل میں ہے۔ ہم نے نہ صرف ریکوریاں کرنی ہیں بلکہ ذمہ داروں کو سزائیں بھی دینی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سستی اور ماحول دوست توانائی کی پالیسی بنا رہی ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ قوم کو سستی توانائی فراہم کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں احساس پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ ان کے دور میں گریڈ 17سے گریڈ 22 کے افسران بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کر رہے تھے۔ ان کا حال یہ ہے کہ سندھ کے ہسپتالوں میں کرپشن ہوتی ہے۔ سیہون میں دھماکہ ہوتا ہے تو ایمبولینس نہیں ہوتی۔ سب سے زیادہ سکولوں سے باہر رہ جانے والے بچے سندھ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لئے انگریزی میں تقریر کی اور نعرے بازی کے لئے اردو کا سہارا لیا۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں 24 فیصد مہنگائی تھی۔ آج مہنگائی کی شرح 14 فیصد ہے۔ سندھ کے گوداموں سے گندم ‘ ہسپتالوں سے ڈاکٹر‘ سکولوں سے اساتذہ اور قوم کا پیسہ غائب ہے۔ گندم چوری پر یہ پلی بارگین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کا جامع پروگرام ہے جس کے تحت 35 پراجیکٹ چل رہے ہیں اس کے لئے 192 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بیوہ خواتین‘ یتیم بچے‘ بوڑھوں اور نوجوان اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ 57 لاکھ خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کئے جاچکے ہیں۔ جب وفاقی حکومت سندھ میں انصاف کارڈ کا دائرہ کار پھیلا رہی تھی تو سندھ حکومت سے رابطہ کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ نہ صرف سرکاری بلکہ بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی اس کارڈ کے ذریعے علاج ہو سکے گا۔ سندھ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ ہمیں نام پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت آئی ‘ انہیں غیرت کرتے ہوئے اپنی والدہ کے قاتلوں کو گرفتار کرنا چاہیے تھا۔ ہم محنت کرتے ہیں‘ پرچی لے کر نہیں آتے اور نہ ہی حادثاتی طور پر پارٹی کے چیئرمین بنائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمیں جمہوریت سکھا رہے ہیں جو حادثاتی طور پر پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک سال کی عمر میں کمپنی کے ڈائریکٹر بن جاتے ہیں۔ سندھ کی تعلیم کا پیسہ ان کے اکاﺅنٹ میں جارہا تھا۔ یہ سب ایسے حالات میں ہو رہا تھا جب تھر میں فاکوں سے بچے ہلاکت کا شکار ہو رہے تھے۔ اگر صحیح معنوں میں احتساب ہو تو بلاول بھٹو کو اپنی آکسفورڈ کی فیس بھی واپس کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے آج اپنی تقریر میں تنخواہیں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ہم نے جب استعفی دیا تھا تو یہ لوگ آکر منت سماجت کرتے تھے۔ ہماری تنخواہیں بھی بھیجی گئی تھیں اور ہم نے واپس کرکے کہا تھا کہ اسے سیلاب زدگان کی امداد میں استعمال میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیاری کرکے آئے تھے کہ آج معیشت پر بات ہوگی لیکن یہ بحث کو کسی اور ڈگر پر لے گئے ہیں۔ ہم نے اداروں کو خسارے سے نکالا ہے۔ ملک کو سیاحت میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ زراعت جو منفی گروتھ میں جارہی تھی اب اس میں حقیقی بڑھوتری سامنے آرہی ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں ٹیکسٹائل کی سو ملز بحال ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر درست سمت دے دی ہے۔ ملک میں امن بحال کرکے ٹورازم کو فروغ دیا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آئے گی تو ملک میں کارخانے کیسے لگیں گے۔ اب یہ ثمرات پاکستانی قوم تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے بڑھکیں ماری ہیں۔ ہم ان سے یہ توقع کر رہے تھے کہ یہ بتائیں گے پچیس پچیس سال تک مہنگی بجلی کے معاہدے کیسے کرکے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کا تقدس بحال کرنا ہے تو آئندہ بلاول بھٹو زرداری یہ حلف دیں گے کہ وہ کسی کی ذات کو تنقید کا نشانہ نہیں بنائیں گے تو یہاں بات کر سکیں گے۔ یہ لوگ معیشت پر بات کرنے نہیں آئے یہ ابو بچانے کی مہم لے کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے 268 ارب کے میٹرو بنائے جن پر 35 ارب سبسڈی دی جارہی ہے۔ ہمارا خواب پاکستان کو بدلنا فرسودہ نظام کو بدلنا ہے۔ نقصان میں جانے والے اداروں کو منافع بخش ادارہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور لاڑکانہ کتوں کی زد میں ہیں۔ ہم ان باﺅلے کتوں کو پکڑیں گے۔ سندھ کے شہریوں کو کاٹنے والے کتوں کو بند کریں گے۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو چیلنج کیا کہ پاکستان کے کسی بھی حلقہ سے الیکشن لڑیں میں ان کا مقابلہ کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی لوٹ مار ‘ 24 ہزار کے قرضوں کی باتیں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔

مزید خبریں