لاہور ۔ 19 فروری (اے پی پی) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سمیت صوبے کی10بڑی یونیورسٹیز کو پہلے مر حلے میںشمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس کے تحت سالانہ 256ملین روپے اور25سالوں کے دوران مجموعی طوپر 6ارب 41کروڑ روپے کی بچت ہوگی 'ماضی کے حکمرانوں کے ایل این جی اوربجلی سمیت مختلف منصوبوں کے مہنگے تر ین معاہدوں پر فوری نظر ثانی …
پنجاب یونیورسٹی سمیت صوبے کی10بڑی جامعات کو پہلے مر حلے میں شمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا پنجاب کی تمام سرکاری یونیورسٹیز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے معاہدے کی تقریب سے خطاب و میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
لاہور ۔ 19 فروری (اے پی پی) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سمیت صوبے کی10بڑی یونیورسٹیز کو پہلے مر حلے میںشمسی توانائی پر منتقل کیا جارہا ہے جس کے تحت سالانہ 256ملین روپے اور25سالوں کے دوران مجموعی طوپر 6ارب 41کروڑ روپے کی بچت ہوگی ‘ماضی کے حکمرانوں کے ایل این جی اوربجلی سمیت مختلف منصوبوں کے مہنگے تر ین معاہدوں پر فوری نظر ثانی کر نا ہوگی اور مجھے توقع ہے اس معاملے میں قطر سمیت دیگر ممالک پاکستان سے تعاون کر یں گے ‘نجی یونیورسٹیز کے سب کیمپس سمیت دیگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کر یں گے جسکے بہت جلد پر ائیوٹ یونیورسٹیز کے تنظیمی عہدیداروں سے صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن ‘چیئر مین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور سیکرٹری ایجوکیشن کے ہمراہ باقاعدہ ملاقات کر وں گا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز گور نر ہائوس لاہور میں پنجاب کی تمام سرکاری یونیورسٹیز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کے تحت گور نر ہائوس لاہور میں محکمہ انرجی اور پنجاب یونیورسٹی کے در میان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد اور محکمہ توانائی کے شعبہ پی ای سی سی اے ( پیکا ) کے ایم ڈی عدنان مدثر نے پنجاب یونیورسٹی کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے معاہدہ پر دستخط کئے ۔پنجاب یونیورسٹی میں اس منصوبے کے تحت سالانہ42.7ملین روپے کی بچت ہوگی ۔ اس موقع پر اے سی ایس انر جی پنجاب ارم بخاری سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ پنجاب کی تمام جامعات کو خود مختار بجلی کے نظام پر منتقل کیا جارہا ہے اور اس سارے عمل میں حکومتی خزانہ سے کسی قسم کاپیسہ خرچ نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے پرائیوٹ ادارے بنیادی سر مایہ کاری کر یں گے، اس منصوبے کے تحت نہ صرف یونیورسٹیز کو سستی بجلی فراہم ہوگی بلکہ اضافی بجلی نیشنل گر یڈ کو بھی دی جاسکے گی اور وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت پنجاب کی تمام یونیورسٹیز کو سولر انر جی پر منتقل کیا جائیگا اسکے ساتھ ساتھ میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے ساتھ ملکر پنجاب کے تمام سر کاری محکموں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کر نے کیلئے کام کروں گا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں گور نر پنجاب نے کہا کہ بجلی لاگت کو کم کر نے اور ماحول دوست بجلی کی پیدوار کیلئے ضروری ہے کہ ہم شمسی توانائی کیساتھ ساتھ پن اور پون بجلی بنائیں جس سے پاکستان کو نہ صرف اربوں ڈالرز کی بچت ہوگی بلکہ بجلی بنانے کیلئے بیرون ممالک سے خام تیل کی درآمد ات کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی منتقل ہونے کے علاہ لائٹس کی بھی ایل ای ڈی لائٹس پر منتقلی اور ایئر کینڈیشنرز بھی انورٹرزلگانا ہوں گے جس کے ذریعے سالانہ 20فیصد بجلی کی بچت ہوگی ۔صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ماضی کی حکومت نے آئی پی پیزکو فائدہ پہنچانے کیلئے شمسی توانائی کے حوالے سے بہت سی پابندیاں لگائیں جن کو ہماری حکومت نے ختم کر دیا ہے اور اب ہم یونیورسٹیز کے ساتھ ساتھ دیگر سر کاری اداروں کو بھی شمسی توانائی پر منتقل کر نے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ،ہم نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں پائلٹ پر اجیکٹ لگایا ہے جہاں سالانہ 17.08ملین روپے کی بچت ہو رہی ہے ۔








