کراچی۔20دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے 31 جنوری کو استعفے دینے کا کہا ہے لیکن سال کا نہیں بتایا ہے کہ کونسے سال کی 31 جنوری ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ 2023 سے پہلے استعفے آئیں گے ،اگر استعفے آئیں بھی تو جلدمنظور بھی کرلئے جائیں گے ، دھرنا دینا آسان کام …
اپوزیشن نے 31 جنوری کو استعفے دینے کا کہا ہے لیکن سال کا نہیں بتایا ، کونسے سال کی 31 جنوری ہے ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری

مزید خبریں
کراچی۔20دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے 31 جنوری کو استعفے دینے کا کہا ہے لیکن سال کا نہیں بتایا ہے کہ کونسے سال کی 31 جنوری ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ 2023 سے پہلے استعفے آئیں گے ،اگر استعفے آئیں بھی تو جلدمنظور بھی کرلئے جائیں گے ، دھرنا دینا آسان کام نہیں ہے ، دھرنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا وسیع تجربہ ہے جب عزم ، ارادہ نہ ہو تو کرایہ کے لوگ اسلام آباد کی یخ بستہ راتوں میں زیادہ دیر تک نہیں ٹکتے ، مہنگائی ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو حاجی کیمپ میں حج آرگنائز ایسوسی ایشن پاکستان اور حج آرگنائز ایسوسی ایشن سندھ کے نمائندوں سے حج کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس میں وزرات مذہبی امور اور حاجی کیمپ کے حکام بھی موجود تھے ۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امورپیر نور الحق قادری نے کہا کہ حج 2021 کے لئے سعودی عرب نے اب تک واضح پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے ، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرکے تجاویزلیں گے اور جب سعودی حکام سے رابطہ ہوگا تو ان تجاویز سے بھی ان کو آگاہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کے ساتھ عمرہ ہورہا ہے اور صورتحال میں بتدریج بہتری آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے حج کے لئے سعودی عرب سے حجاج کے لئے زیادہ سے زیادہ آسانیاں اور سہولیات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ حج کم سے کم اخراجات میں کرایا جائے لیکن اگر حج ایس او پیز کے ساتھ ہوا تو یہ مہنگا حج ہوگا سستا حج نہیں ہوگا۔قبل ازیں اجلاس کی صدارت کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حج 2021کے لئے یہ پہلا مشاورتی اجلاس ہے اور اس سے پہلے کسی سطح پر باقاعدہ کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال حج معمول کا حج نہیں تھا لیکن اب ویکسن آنے کے بعد حالات بتدریج بہتر ہورہے ہیں لیکن جب تک سعودی عرب کوئی فیصلہ نہیں کرتا ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جائے لیکن اس ریلیف کا حجاج کو فائدہ پہنچناا چاہئے ۔ اس موقع پر حج آرگنائز ایسوسی ایشن پاکستان اور حج آرگنائز ایسوسی ایشن سندھ کے نمائندوں نے وفاقی وزیر کو تجاویز پیش کی کہ سعودی حکومت کی جانب سے حج و عمرے کیلئے کم سے کم عمر کی حد 18 سال ہے اور زیادہ سے زیادہ عمرکی حد 50 سال ہے ، عمر کی اس حد کو 65 سال کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے جہاں دیگر شعبے متاثرہوئے ہیں وہاں ہم بھی بہت متاثر ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کے حوالے سے حجاج کو بھی ترجیح دی جائے ۔ وفاقی وزیرنے شرکا کو یقین دلایا کہ ان کی تجاویز کو آگے پہنچائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ن کو مشورہ ہے کہ وہ جن لوگوں کی قیادت کررہے ہیں وہ ان کے منصب اور شان کے خلاف ہے ۔








