اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیروبا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اوربحالی کے عمل میں ایشیا اوربحرالکاہل خطہ کے ممالک کو پانی کی سلامتی کو اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہئیے۔ یہ بات ایشائی ترقیاتی بینک کی ”ایشیئن ڈولپمنٹ آوٹ لک“ نامی تازہ ترین رپورٹ میں کہی گئی ہے۔اس رپورٹ میں ایشیا اوربحرالکاہل خطہ کے ممالک میں پانی کی صورتحال، …
کورونا وائرس کی عالمگیروبا وماحولیاتی تبدیلیاں،بحالی کے عمل میں ایشیا اوربحرالکاہل خطہ کے ممالک کو پانی کی سلامتی کو اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہئیے، ایشیائی ترقیاتی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیروبا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اوربحالی کے عمل میں ایشیا اوربحرالکاہل خطہ کے ممالک کو پانی کی سلامتی کو اولین ترجیحات میں شامل کرنا چاہئیے۔ یہ بات ایشائی ترقیاتی بینک کی ”ایشیئن ڈولپمنٹ آوٹ لک“ نامی تازہ ترین رپورٹ میں کہی گئی ہے۔اس رپورٹ میں ایشیا اوربحرالکاہل خطہ کے ممالک میں پانی کی صورتحال، پینے کیلئے صاف پانی کی فراہمی،سینیٹیشن، روزگارمیں بہتری، صحت مندانہ ایکوسسٹم اورپانی سے منتقل ہونے والی بیماریوں اورسیلاب سے متعلق امورکاتفصیل سے احاطہ کیاگیاہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر مسات سوگوآسا کاوانے اپنے بیان میں کہاہے کہ کوویڈ19 کے بحران کے تناظرمیں پانی کی سلامتی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ پینے کیلئے صاف پانی تک رسائی،سینیٹیشن، اورذاتی صفائی کو وبا کے پھیلاوکو روکنے میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے خطہ کے ممالک میں پینے کیلئے صاف پانی اوردیگرخدمات تک رسائی محدود ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ خطے کے ممالک میں 1.5 ارب افراد دیہات اور600 ملین شہروں میں رہ رہے ہیں جن میں اکثریت کو پانی اورسینیٹیشن کی مناسب خدمات کی فراہمی میں مشکلات سامنا ہے۔ اے ڈی بی کے 49 ممالک میں 27 ممالک میں پانی اوراقتصادی ترقی کے حوالہ سے سنجیدہ نوعیت کی رکاوٹیںہیں۔رپورٹ میں رکن ممالک پرزوردیا گیاہے کہ وہ پانی، سینیٹیشن،اورپانی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ کو کھڑاکرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کویقینی بنائے کیونکہ صرف اسی صورت میں پائیدارترقی کے حوالہ سے اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے 2020 سے 2022 تک کی مدت میں رکن ممالک میں پانی اورسییٹیشن سے متعلق منصوبوں اورپروگرامز کیلئے 6 ارب ڈالرمختص کئے ہیں جو رکن ممالک کومالیاتی اور تکنیکی معاونت کے ضمن میں فراہم کی جائیگی۔اسی طرح سیلاب سے تحفظ کیلئے منصوبوں پر2 ارب ڈالرخرچ ہوں گے۔








