اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے موجودہ حکومت کے دیرپا اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فطرت کا مقابلہ ممکن نہیں تاہم بہتر اور زمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وہ پیر کو یہاں ماحولیات کے حوالے سے ایک روزہ قومی کانفرنس سے …
فطرت کا مقابلہ ممکن نہیں ،بہتر اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے، معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم کا قومی کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے موجودہ حکومت کے دیرپا اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فطرت کا مقابلہ ممکن نہیں تاہم بہتر اور زمہ دارانہ طرزِ عمل کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ وہ پیر کو یہاں ماحولیات کے حوالے سے ایک روزہ قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس کا انعقاد بچوں کے صاف پانی ، صفائی، معیاری تعلیم، خوراک اورصحت سے متعلق حقوق کو اجاگر کرنے کے سلسلے میں کیا گیا۔ کانفرنس کا اہتمام ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن اور جرمن حکومت کے فنڈڈ ادارہ کے این ایچ کے تعاون سے کیا گیا۔معاون خصوصی ملک امین اسلم اور جرمن سفارتخانہ کے شعبہ ڈویلپمنٹ کوآپریشن کے سربراہ نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس میں بچوں، نوجوانوں، سرکاری حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک امین اسلم نے کانفرنس میں تمام صوبوں سے بچوں اور نوجوانوں کی بھرپور شرکت کو سراہا۔ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے بحران اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہم فطرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے، انسانی عوامل پر فطرت ہمیشہ اپنا ردعمل دکھاتی ہے اور یہ موسمیاتی تبدیلی کے معاملے میں بھی ثابت شدہ ہے۔ امین اسلم نے کہا کہ ہماری حکومت نے کورونا کی وباء کے دوران بہتر حکمت عملی اختیار کی اور کئی منصوبوں کو ان تبدیل شدہ حالات سے ہم آہنگ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس بلین ٹری سونامی پروگرام پورے ملک میں جاری ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب کے سامنے ہیں، موجودہ حکومت کے منصوبے قدرتی ماحول کے تحفظ اور فروغ کے زریعے ان اثرات کی شدت میں کمی لانے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔








