اپوزیشن عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلے، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلے، اپوزیشن عوام کی زندگیاں بچانے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرے، پی ڈی ایم کو اس کے اندر سے ردعمل کا سامنا ہے، اپوزیشن رہنماء اگر استعفے دینا چاہتے ہیں تو جلدی دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نجی ٹی وی چینل کے …

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلے، اپوزیشن عوام کی زندگیاں بچانے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرے، پی ڈی ایم کو اس کے اندر سے ردعمل کا سامنا ہے، اپوزیشن رہنماء اگر استعفے دینا چاہتے ہیں تو جلدی دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاست ہوتی رہے گی عوام کی صحت اور ان کی زندگی حکومت اور اپوزیشن دونوںکی اولین ترجیح ہونی چاہیے، حکومت اور اپوزیشن کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے اور کورونا کی موجودہ صورتحال میں لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام کی زندگیوں سے نہ کھیلے، عوام کی زندگیاں ہماری انا سے بہت اونچی ہے، اپوزیشن کو کورونا کی صورتحال کے پیش نظر جلسے نہیں کرنے چاہئیں، اللہ تعالی ہم سب کو آفات سے بچائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کو کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا، اپوزیشن جماعتوں کے بھی اکثر رہنماء کورونا کا شکار ہوئے، اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرے تاکہ عوام کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران پاکستان کی سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کامیاب رہی اور پاکستان بڑے نقصان سے محفوظ رہا ۔ ایک سوال کے جواب میں علی محمد خان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے لندن کا فلیٹ بیچ کر بنی گالہ کا گھر بنایا، مسلم لیگ (ن) کے دور اقتدار میں وزیراعظم عمران خان کے گھر کا کیس چلا اور وزیراعظم عمران خان نے کیس کی پیروی کی اور سپریم کورٹ سے کلیئر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کو اس کے اندر سے ردعمل کا سامنا ہے، عوام نے پی ڈی ایم کے بیانیہ کو مسترد کر دیا ہے اور لاہور میں ہونے والا جلسہ اس کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کاغذ اور قلم مجھ سے لے اور استعفے لکھ کر دے، جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، اپوزیشن جماعتوں نے استعفے دینے ہیں تو جلدی دیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پاس جلسے کرنے اور دھرنا دینے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، پی ڈی ایم 126 گھنٹے دھرنا نہیں دے سکتی۔