اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):سرمایہ کاری بورڈکی وفاقی سیکرٹری فارینہ مظہرنے کہاہے کہ ملک میں کاروبار، تجارت اورسرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول کی فراہمی میں پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشئیٹو(پی آرایم آئی) کلیدی اقدام ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے شروع کردہ ان اصلاحات کانفاذ حکومت کی جانب سے ملک میں پیداوارمیں اضافہ اورپائیداراقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کی وسیع ترحکمت …
ملک میں کاروبار، تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول کی فراہمی میں پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشئیٹو کلیدی اقدام ہے، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈکی اے پی پی سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):سرمایہ کاری بورڈکی وفاقی سیکرٹری فارینہ مظہرنے کہاہے کہ ملک میں کاروبار، تجارت اورسرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول کی فراہمی میں پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشئیٹو(پی آرایم آئی) کلیدی اقدام ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے شروع کردہ ان اصلاحات کانفاذ حکومت کی جانب سے ملک میں پیداوارمیں اضافہ اورپائیداراقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کی وسیع ترحکمت عملی کاحصہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشئیٹو(پی آرایم آئی) کا بنیادی مقصدکاروبارکے آغاز کیلئے بہتراورسازگارماحول کی فراہمی اوروفاقی، صوبائی اورضلعی سطح پرریگولیٹری فریم ورک کوسادہ اور انسانی مداخلت سے آزادکرنا ہے۔مجموعی طورپران اصلاحات سے ملک میں براہ راست نجی اورغیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔
سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈنے کہاکہ اندرونی اوربیرونی سرمایہ کاری کوراغب کرنے میں کاروبار اورسرمایہ کاری کیلئے سازگارماحول کی فراہمی اہمیت کی حامل ہے۔اس وقت دنیا بھرمیں کاروبار کیلئے ماحول کو بہتربنانے پرزوردیا جارہاہے۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ عالمی بینک کاروبارمیں آسانیوں کے حوالہ سے عالمی رینکنگ رپورٹ دسمبرمیں جاری کررہاہے اورہمیں توقع ہے اس رینکنگ میں پاکستان کی پوزیشن میں مزید بہتری آئیگی اورپاکستان کی رینکنگ 100 کے ہندسہ سے نیچےآئیگی، اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوگا۔
عالمی بینک کی رینکنگ میں بہتری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک میں تجارت کیلئے بہترضوابط ہیں جبکہ حقوق کوتحفظ بھی فراہم کیا جارہاہے۔سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈنے کہاکہ یہ بات حوصلہ افزاہے کہ گزشتہ 2 برسوں میں پاکستان کی رینکنگ میں 39 درجہ کی بہتری ہوئی ہے اورپاکستان 108 ویں پوزیشن پرآیا ہے۔
ملک میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں 63 فیصد کی نموہوئی ہے، 99 فیصد رجسٹریشن کاعمل آن لائن ہواہے جبکہ 45 فیصد درخواست گزاروں کواسی دن سرٹیفیکیٹس کااجراکیا گیا جس کا کریڈٹ وفاقی، پنجاب ، سندہ حکومت اورسرمایہ کاری بورڈکو جاتاہے۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ اصلاحات کے عمل میں سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایف بی آر اورایمپلائز اولڈایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشنز کا اہم کردارہے۔
اس وقت 10 اشاریوں کی بنیادپر50 اصلاحات پرمبنی ایکشن پلان پرعمل درآمدہورہاہے۔ پاکستان نے 6 اصلاحاتی پلانز کانفاذکردیا ہے اور7 وین پلان پرعمل درآمدہورہاہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سرمایہ کاری بورڈملک میں کاروباراورتجارت کیلئے سازگارماحول کی فراہمی کے زریعہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے اقدامات کررہاہے۔








