ای سی سی نے ایک لاکھ 20 ہزارمیٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈر اور فوجی آئل ٹرمینل اینڈڈسٹری بیوشن کمپنی کیلئے ٹیرف پرنظرثانی کی منظوری دیدی

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایک لاکھ 20 ہزارمیٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈر، فوجی آئل ٹرمینل اینڈڈسٹری بیوشن کمپنی (فوٹکو) کیلئے ٹیرف پرنظرثانی اور پبلک سیکٹرکمپنیز(کارپویٹ گورننس) رولز کے تحت پاکستان نیشنل شیپنگ کارپویشن کے 19 ذیلی کمپنیوں کو قواعد میں جون 2021 تک کی مدت کیلئے نرمی دینے کی منظوری دیدی ہے، ای سی سی نے خودکارطریقہ سے ضائع …

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایک لاکھ 20 ہزارمیٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈر، فوجی آئل ٹرمینل اینڈڈسٹری بیوشن کمپنی (فوٹکو) کیلئے ٹیرف پرنظرثانی اور پبلک سیکٹرکمپنیز(کارپویٹ گورننس) رولز کے تحت پاکستان نیشنل شیپنگ کارپویشن کے 19 ذیلی کمپنیوں کو قواعد میں جون 2021 تک کی مدت کیلئے نرمی دینے کی منظوری دیدی ہے، ای سی سی نے خودکارطریقہ سے ضائع ہونے والی سرنجز اورمقامی سطح پران سرنجز کی پیداوارکیلئے خام مال ومصنوعات کی درآمد پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں چھوٹ دینے کی بھی منظوری دیدی ہے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس جمعرات کویہاں وزیرخزانہ شوکت فیاض ترین کی زیرصدارت وزارت خزانہ میں منعقدہوا،اجلاس میں وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق سیدفخرامام، وزیرداخلہ شیخ رشید احمد، وزیرنجکاری محمدمیاں سومرو، وفاقی وزیربحری امورسیدعلی حیدرزیدی، وفاقی وزیرریلوے اعظم خان سواتی، وزیرمملکت اطلاعات ونشریات فرخ حبیب، معاون خصوصی پاور و پٹرولیم تابش گوہر، گورنرسٹیٹ بینک رضاباقر، وفاقی سیکرٹریز، چئیرمین ایف بی آر اور دیگرسینئرحکام نے شرکت کی۔وزارت پٹرولیم کی جانب سے اجلاس میں فوجی آئل ٹرمینل اینڈڈسٹری بیوشن کمپنی (فوٹکو) کیلئے ٹیرف پرنظرثانی سے متعلق سمری پیش کی گئی تاکہ کمپنی اپنے آپریٹنگ اورمرمت وبحالی کے اخراجات پورے کرسکے، کمپنی کیلئے ٹیرف کی منظوری 20 سال قبل 2000 میں بیس سالوں کیلئے دی گئی تھی اوراس پرعرصہ میں نظرثانی نہیں کی گئی تھی،

طویل گفت وشنید کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 5 برسوں کیلئے نظرثانی شدہ ٹیرف کی منظوری دیدی جس کی ادائیگی مساوی پاکستانی روپوں میں کی جائیگی۔اجلاس میں وزارت پٹرولئیم، اوگرا، پی ایس او،میسرز اے ایف فرگوسن، وزارت بحری امور اوروزارت خزانہ کے نمائندوں پرمشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دیدی گئی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی 2012 سے لیکر2020 کی مدت میں ٹیرف میں تفاوت سے متعلق امورکا فیصلہ کرے گی۔

اجلاس میں وزارت بحری امورکی جانب سے پبلک سیکٹرکمپنیز(کارپویٹ گورننس) رولز کے تحت پاکستان نیشنل شیپنگ کارپویشن کے 19 ذیلی کمپنیوں کونرمی دینے سے متعلق سمری پیش کی گئی، ای سی سی نے نرمی کے قواعد میں جون 2021 تک کی مدت کیلئے منظوری دیدی اور کارپوریٹ گورننس رولز کے اصولوں کے مطابق ان کمپنیوں کیلئے چیف ایگزیکٹوآفسران کی قیادت میں آزادانہ بورڈزکے قیام کی تجاویز دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں وزارت قومی صحت خدمات وضوابط کی جانب سے خودکارطریقہ سے ضائع ہونے والی سرنجز اورمقامی سطح پران سرنجز کی پیداوارکیلئے خام مال ومصنوعات کی درآمد پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں چھوٹ دینے سے متعلق سمری پیش کی گئی، ای سی سی نے اس سمری کی منظوری دیدی۔

چئیرمین ایف بی آرڈاکٹرمحمداشفاق نے ٹیکس چوری اوربعض اشیا پرقابل ادا ڈیوٹیز کی عدم ادائیگی کی ٹریک اینڈٹریس نظام کی روک تھام کیلئے ان لینڈریونیوانفورسمنٹ نیٹ ورک (آیرن) کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے متعلق ایک سمری پیش کی۔آئرن کے تحت سابق فاٹا وپاٹا کے اضلاع سے نکلنے والی اشیا کی چیکنگ بھی ہوسکے گی۔ ای سی سی نے اس سمری کاجائزہ لیا اوراس کی منظوری دیدی۔بطورچئیرمین کمیٹی وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہاکہ ٹیکسوں اورڈیوٹیوں کے حصول کیلئے قواعد وضوابط کے اطلاق میں ایف بی آر ہراساں کئے جانے کی بجائے خیرسگالی کی فضا قائم کرے گی، اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر قومی خزانہ میں اضافہ کیلئے ٹیکس چوری کے خاتمہ اورٹیکس کی بنیادمیں وسعت کیلئے اقدامات کرے گی۔

اس ضمن میں چیک اینڈبیلنس کے با ضابطہ نظام کی پیروی کی جائیگی، وزیرخزانہ نے ایف بی آر کوہدایت کی کہ وہ ٹیکس وصولی میں انفورسمنٹ کے روایتی طریقہ ہائے کارکی بجائے جدید ترین ٹیکنالوجی پرمبنی طریقہ کاراپنائے۔اجلاس میں وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کی سفارش پرکابینہ کی ہدایت کے مطابق ملک میں جاری مالی سال کے دوران گندم کے سٹریٹجک ذخائر کے قیام کیلئے 40 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی ہدایت کی تعمیل کے ضمن میں 1 لاکھ 20 ہزارمیٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈرکی منظوری دی گئی۔

کمیٹی نے چئیرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کوگندم کی درآمدکاعمل تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھرمیں گندم کی فراہمی کاعمل رواں رہے۔ کمیٹی نے چئیرمین ٹی سی پی کوگندم کی درآمدکے نظام الاوقات اوردیگرتقاضوں کے بارے میں وزیراعظم کے مشیربرائے تجارت کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔