سعودی ولی عہد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ، تنازعات ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کنجی رکھتے ہیں،فرانسیسی مصنفہ

ریاض ۔13فروری (اے پی پی):فرانسیسی مصنفہ اور تجزیہ کار الیگزینڈر اشوارتزبرود نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ، تنازعات ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کنجی رکھتے ہیں۔سبق ویب سائٹ کے مطابق الیگزینڈر اشوارتزبرود نے فرانسیسی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی ولی عہد ہی وہ شخصیت ہیں جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا …

ریاض ۔13فروری (اے پی پی):فرانسیسی مصنفہ اور تجزیہ کار الیگزینڈر اشوارتزبرود نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ، تنازعات ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کنجی رکھتے ہیں۔سبق ویب سائٹ کے مطابق الیگزینڈر اشوارتزبرود نے فرانسیسی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ سعودی ولی عہد ہی وہ شخصیت ہیں جو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا و اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام کے بدلے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط دو ریاستی حل کے منصوبے کی طرف اشارہ ہے۔ مصنفہ نے اس بات پر زور دیا کہ ریاض کے پاس ایسے وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں جنہیں استعمال کرکے وہ واشنگٹن اور تل ابیب پر دباؤ ڈال سکتا ہے تاکہ امن کے قیام اور آزاد فلسطینی ریاست کو یقینی بنایا جا سکے۔الیگزینڈرا شوارتزبرود نے کہا کہ سعودی عرب عالمی توانائی کی قوت ہے اور اس کے پاس نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ سے کہنے کی جرات ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام بارے سنجیدہ گفتگو کریں۔

واضح رہے کہ سعودی وزارت خارجہ نے گزشتہ اتوار کو جاری بیان میں فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقوق کی حمایت بارے مملکت کے تاریخی اور مستقل موقف کا اعادہ کیا ۔ بیان میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت یا ان کے حقوق کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے عرب امن منصوبے اور بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر زور دیا گیا۔اسی طرح بدھ کے روز جاری ایک اور بیان میں سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔