لندن۔13فروری (اے پی پی):برطانوی حکومت نےغیر قانونی تارکین کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق شہریت کے قوانین کے حوالے سے جاری نئی گائیڈنس کے مطابق سمندر کے ذریعے یا گاڑیوں میں چھپ کر برطانیہ آنے والے تارکین وطن کو شہریت نہیں دی جائے گی۔برطانوی محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق اس گائیڈنس نے ان اقدامات کو مزید سخت کیا ہے جو اس بات …
برطانوی حکومت کا غیر قانونی تارکین کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ

مزید خبریں
لندن۔13فروری (اے پی پی):برطانوی حکومت نےغیر قانونی تارکین کو شہریت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو نیوز کے مطابق شہریت کے قوانین کے حوالے سے جاری نئی گائیڈنس کے مطابق سمندر کے ذریعے یا گاڑیوں میں چھپ کر برطانیہ آنے والے تارکین وطن کو شہریت نہیں دی جائے گی۔برطانوی محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان کے مطابق اس گائیڈنس نے ان اقدامات کو مزید سخت کیا ہے جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ برطانیہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افراد بشمول کشتیوں سے آنے والوں کی شہریت کی درخواستیں مسترد ہوں۔ رکن پارلیمان سٹیلا کریسی نے ایکس پر کہا ہے کہ ’اگر ہم کسی کو ریفیوجی کا درجہ دیتے ہیں تو پھر یہ غلط ہوگا کہ ہم ان کے لیے شہریت حاصل کرنے کا راستہ ہی بند کر دیں۔
یہ پالیسی ان کو ہمیشہ کے لیے دوسرے درجے کا فرد بنا دے گی۔ امیگریشن قوانین کے حوالے سے بلاگ ’’فری مومنٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ مذکورہ تبدیلیوں سے ایک بڑی تعداد میں تارکین وطن فوری اور موثر طور پر برطانوی شہری بننے سے محروم ہو جائیں گے۔فری مومنٹ کے مطابق یہ گائیڈنس غیر معمولی طور پر نفرت انگیز اور انضمام کے لئے نقصان دہ ہے۔برطانوی حکومت کی جانب سے یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے اراکین پارلیمان نے حکومت کے نئے’’بارڈر سکیورٹی، اسائلم اور امیگریشن بل‘‘ پر بحث کا آغاز کیا۔اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسداد دہشت گردی کی طرز پر اختیارات دیئے جائیں گے
جن کو استعمال کرکے وہ ان منظم گینگز کی سرکوبی کرسکیں گے جو انگلش چینل کے ذریعے غیرقانونی تارکین کو برطانیہ پہنچاتے ہیں۔برطانیہ پہنچنے والے قانونی اور غیرقانونی تارکین دونوں کی تعداد اس وقت تاریخی طور پر بہت زیادہ ہے۔ برطانیہ کی وزارت داخلہ کے غیر حتمی اعداد و شمار کے مطابق فرانس اور برطانیہ کے درمیان انگلش چینل (رودبار انگلستان) سے 2024 کے دوران 36 ہزار 816 افراد گزرے جو 2023 کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔2023 کے دوران 29 ہزار 437 افراد گزرے تھے۔








