بیجنگ۔14فروری (اے پی پی):چین کی مسلسل کم ہوتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے اور شادی کی ترغیب دینے کے لئے علاقائی حکومت نے نوجوان جوڑوں کو بطور تحفہ نقدی دینے کا اعلان کردیا جس کے بعد نوجوانوں میں شادی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے،شادی کرنے پر مقامی انتظامیہ 1500 کی طرف سے یوان (205 ڈالر )دیے جارہے ہیں۔ تائیوان کے اخبار ٹیپی ٹائمز کے مطابق چین کے شہر لولیناگ …
چینی شہر کا شادی پر بطور تحفہ 1500 یوان دینے کا اعلان ، نوجوانوں میں شادی کے رجحان میں اضافہ

مزید خبریں
بیجنگ۔14فروری (اے پی پی):چین کی مسلسل کم ہوتی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے اور شادی کی ترغیب دینے کے لئے علاقائی حکومت نے نوجوان جوڑوں کو بطور تحفہ نقدی دینے کا اعلان کردیا جس کے بعد نوجوانوں میں شادی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے،شادی کرنے پر مقامی انتظامیہ 1500 کی طرف سے یوان (205 ڈالر )دیے جارہے ہیں۔ تائیوان کے اخبار ٹیپی ٹائمز کے مطابق چین کے شہر لولیناگ کا شمار ان متعدد شہروں میں ہوتا ہے جہاں کی مقامی انتظامیہ شادی کرنے پر 1500 یوان تحفے کے طور پر دے رہی ہے۔
لولیناگ کے رہائشیوں ژانگ گانگ اور وینگ لنبن نے شادی کی تقریب کے کچھ دیر بعد چینی حکومت کے نشان کے سامنے تصویر کچھوائی جس میں انہوں نے ہاتھ میں نقد کیش کا سرٹیفیکیٹ بھی تھام رکھا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے بچے کی پیدائش پر میڈیکل انشورنس دینے کا بھی اعلان کیا ہے، پہلے بچے کی پیدائش پر 2 ہزار یوان ،دوسرے پر 5 ہزار اور تیسرے پر 8 ہزار یوان شادی شدہ جوڑوں کو دیئے جاتے ہیں۔یکم جنوری کو جب انتظامیہ نے شادی کے عوض نقد رقم دینے کا اعلان کیا تھا، تب سے شہر کے رجسٹری آفس میں نئے جوڑوں کو تواتر سے آتے دیکھا جا سکتا ہے۔
رجسٹری آفس میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ نئے سال کے آغاز سے اب تک 400 جوڑے صرف اس دفتر میں اپنی شادی رجسٹر کروا چکے ہیں۔36 سالہ وانگ یانلانگ نے بتایا کہ شادی کے بعد جب رقم لینے آئے تو رجسٹری آفس کے پاس پیسے ختم ہو چکے تھے۔دوسری جانب رشتے کروانے والی خاتون فینگ یوپنگ کا کہنا ہے کہ خواتین اب مستحکم آمدنی کما رہی ہیں اور شاید شادی کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھت،ان تمام عوامل کے نتیجے میں بچوں کی شرح پیدائش میں بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔فینگ یوپنگ کے مطابق شرح پیدائش میں کمی اور طلب نہ ہونے کے باعث بچوں کے کنڈرگارٹن سکول بھی بند ہونا شروع ہو گئے ہیں۔








