ہنوئی۔19فروری (اے پی پی):ویتنام کی پارلیمنٹ نے اپنے سب سے بڑے شمالی بندرگاہی شہر ہائی فونگ سے چین کی سرحد تک 8 بلین ڈالر کے ریلوے منصوبےکی منظوری دے دی،اس سے کمیونسٹ حکمرانی والے دونوں ممالک کے درمیان ر ابطے کو فروغ اور تجارت کو آسان بنایا جائے گا، نئی لائن ملک کے کچھ اہم پیداواری مقامات بشمول سام سنگ، فاکسکن اور پیگاٹرون سے گزرے گی جہاں کی کمپنیاں زیادہ …
ویتنام، بندرگاہ سے چینی سرحد تک ریلوے لائن منصوبے کی منظوری ،8 ارب ڈالر لاگت آئے گی

مزید خبریں
ہنوئی۔19فروری (اے پی پی):ویتنام کی پارلیمنٹ نے اپنے سب سے بڑے شمالی بندرگاہی شہر ہائی فونگ سے چین کی سرحد تک 8 بلین ڈالر کے ریلوے منصوبےکی منظوری دے دی،اس سے کمیونسٹ حکمرانی والے دونوں ممالک کے درمیان ر ابطے کو فروغ اور تجارت کو آسان بنایا جائے گا، نئی لائن ملک کے کچھ اہم پیداواری مقامات بشمول سام سنگ، فاکسکن اور پیگاٹرون سے گزرے گی جہاں کی کمپنیاں زیادہ تر چینی میٹیرل پر انحصار کرتی ہیں ، یہ راستہ ہائی فونگ سے براستہ دارالحکومت ہنوئی 390 کلومیٹر (تقریباً 240 میل)دور پہاڑی شہر لاؤ کائی تک جائے گا جو چین کے صوبے یونان سے متصل ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اس منصوبے کو قومی اسمبلی کے 95 فیصد اراکین کی حمایت حاصل ہے جس پر 8 ارب ڈالر کی لاگت متوقع ہے ، چین اس کے لیے بطور قرض کچھ فنڈ فراہم کرے گا ۔ یہ منظوری صدر شی جن پنگ کے ویتنام کے دورے کے دوران پڑوسیوں کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے وعدے کے ایک سال بعد سامنے آئی ہے، کیونکہ بیجنگ نے ہنوئی کے ساتھ بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
واضح رہے کہ ویتنام کا ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر نسبتاً کمزور اور ریل کا بھی پسماندہ نظام ہے۔ یہ لائن جو نو صوبوں اور شہروں پر محیط ہے، تقریباً فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں بنائے گئے موجودہ ریل ٹریک کے راستے کی پیروی کرے گا، اس ٹریک پر فی الحال ٹرینیں صرف 50 کلومیٹر فی گھنٹہ (30 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چل سکتی ہیں لیکن حکام کا کہنا ہے کہ نئی لائن میں مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلایا جائے گا۔








