اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نےپاکستان کی برآمدات کو متنوع بنانے اور زرعی شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اس سلسلہ میں بھرپور اقدامات کرے گی ،وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا غذائی تحفظ، تحقیق اور پائیدار زرعی طریقوں میں طویل المدتی شراکت داری کے حصول کا ذریعہ بنے …
جدت اور ویلیو ایڈیشن برآمدات میں اضافہ کی کنجی ہے، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نےپاکستان کی برآمدات کو متنوع بنانے اور زرعی شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اس سلسلہ میں بھرپور اقدامات کرے گی ،وزیراعظم کا دورہ ملائیشیا غذائی تحفظ، تحقیق اور پائیدار زرعی طریقوں میں طویل المدتی شراکت داری کے حصول کا ذریعہ بنے گا۔
وہ منگل کو وزیرِاعظم کے آئندہ دورہ ملائیشیا کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ اور ملائیشیا کے ساتھ تجارتی تعاون سے متعلق تجاویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
کمیٹی نے پاکستان کی برآمدات بالخصوص زرعی برآمدات کو ملائیشیا بھیجنے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں حلال گوشت، چاول، پھل اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کی ترقی کے لئے ایک جامع حکمتِ عملی بنانے پر خصوصی زور دیا گیا تاکہ ملائیشیا کی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مصنوعات فراہم کی جا سکیں۔
اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پاکستان زرعی اجناس کا ایک بڑا پیدا کنندہ ہونے کے ناطے ملائیشیا کو معیاری غذائی مصنوعات فراہم کرنے میں ایک نمایاں برتری رکھتا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی برآمدات کو متنوع بنانے اور زرعی شعبے کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تحقیق، جدت اور ویلیو ایڈیشن بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لئے بنیادی عوامل ہیں۔
اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ زرعی پیداواریت اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لئے ملائیشیا کے ساتھ تکنیکی تعاون اور علم کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔اجلاس میں وزیرِاعظم کے دورہ کے دوران پاکستان۔ملائیشیا بزنس سمٹ کے انعقاد پر بھی غور کیا گیا۔
یہ اجلاس زرعی پیدا کنندگان، غذائی مصنوعات کے برآمد کنندگان اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان بی 2 بی تعلقات قائم کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔
توقع ظاہر کی گئی کہ یہ اقدام بالخصوص حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستانی کسانوں اور ایگری بزنسز کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
اجلاس کے اختتام پر رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان زرعی برآمدات میں اضافے کے لئے بھرپور اقدامات کرے گی اور ملائیشیا کا یہ دورہ غذائی تحفظ، تحقیق اور پائیدار زرعی طریقوں میں طویل المدتی شراکت داری کے حصول کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس دورے کے نتائج نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائیں گے بلکہ پاکستانی کسانوں کی خوشحالی اور ملکی معیشت کی بہتری میں بھی کردار ادا کریں گے۔







