سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر دیا

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر دیا۔پیر کوسپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے خانپور ڈیم میں آلودہ پانی کی فراہمی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے کی ۔بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس جمال خان …

اسلام آباد۔3نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے آلودہ پانی کی فراہمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کر دیا۔پیر کوسپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے خانپور ڈیم میں آلودہ پانی کی فراہمی پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے کی ۔بنچ کے دیگر اراکین میں جسٹس جمال خان مندوخیل ، جسٹس عقیل احمد عباسی ،جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامر فاروق شامل تھے ۔سماعت کے دوران وکیل واپڈا حسن رضا نے عدالت کو بتایا کہ خانپور ڈیم پانچ ملین لوگوں کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہے ۔

پہلے ڈیم میں 20 کشتیاں چلتی تھیں اب 326 کشتیاں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیم میں بوٹنگ اور ریزارٹس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سہولت کاری بھی جاری ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ پی ایچ اے ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہے،اسے اس حوالے سے کوئی اصول طے کرنا چاہیے۔جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ڈیم کی انتظامیہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہاں موٹر بوٹس چلانا منع ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کی اجازت کے بغیر وہ کشتیاں کیسے چلا سکتے ہیں؟جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ “بوٹنگ رکوانے کے لیے واپڈا نے کیا اقدامات کیے؟۔وکیل واپڈا نے جواب دیا کہ اس حوالے سے مجسٹریٹ کے سامنے بھی درخواست دائر کی گئی تھی تاہم خانپور تحصیل بننے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ کہتے ہیں کشتوں سے آلودگی پھیل رہی ہے تو کوئی متبادل راستہ بتائیں۔وکیل واپڈا نے بتایا کہ الیکٹرک کشتیاں بھی دستیاب ہیں جن سے آلودگی نہیں پھیلتی۔ بعدازاں عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔