سپریم کورٹ کا پولیس کانسٹیبل کی برطرفی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس کانسٹیبل غلام مرتضیٰ کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب کسی سرکاری ملازم کے خلاف واحد الزام کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کا ہو اور وہ …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے پولیس کانسٹیبل غلام مرتضیٰ کو ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کرنے کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری فیصلے کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ جب کسی سرکاری ملازم کے خلاف واحد الزام کسی فوجداری مقدمے میں ملوث ہونے کا ہو اور وہ اس مقدمے میں بری ہو جائے تو محکمانہ کارروائی کی بنیاد خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ فیصلہ سول پٹیشن نمبر 4757/2024 میں سنایا جو پنجاب سروس ٹربیونل کے 16 مئی 2024 کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

فیصلے کے مطابق غلام مرتضیٰ جو بطور پولیس کانسٹیبل (بی پی ایس-07) تعینات تھے، کے خلاف 2021 میں قتل کے الزام میں ایف آئی آر نمبر 722/2021 درج کی گئی تھی۔ اس بنیاد پر محکمے نے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر کے انہیں دسمبر 2021 میں ملازمت سے برخاست کر دیا۔ بعد ازاں وہ فوجداری مقدمے میں 26 اپریل 2022 کو بری ہو گئے تاہم محکمانہ کارروائی دوبارہ شروع کر کے انہیں ایک بار پھر برطرف کر دیا گیا۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ انکوائری افسر نے ’’ڈیوٹی میں کوتاہی‘‘ کے الزام پر کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کئے اور صرف ایف آئی آر میں نامزد ہونے کی بنیاد پر سخت کارروائی کی سفارش کی، جو غیر منصفانہ اور قانون کے منافی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ محکمانہ کارروائی اور فوجداری کارروائی دو مختلف دائرہ ہائے اختیار رکھتے ہیں تاہم اگر محکمانہ کارروائی صرف ’’کسی مقدمے میں ملوث ہونے‘‘ کے الزام پر مبنی ہو تو فوجداری عدالت سے بریت کے بعد محکمانہ سزا برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔عدالت نے قرار دیا کہ بغیر شواہد اور منصفانہ انکوائری کے کسی ملازم کو سزا دینا آئین کے آرٹیکل 10A (منصفانہ ٹرائل اور طریقہ کار کے حق)، آرٹیکل 14 (انسانی وقار) اور آرٹیکل 9 (زندگی اور روزگار کے حق) کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے غلام مرتضیٰ کی برطرفی کا حکم اور پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں ملازمت پر بحال کرنے کا حکم دیا۔