سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ ،علاقائی گول میز اجلاس میں جامع ڈیجیٹل ترقی کے امکانات اور چیلنجز زیرِ بحث

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):گلوب سائٹ اور بنگلہ دیش کے سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (سی پی ڈی) کے اشتراک سے “South Asia in the Global DPI Moment: Opportunities & Challenges” کے موضوعپر ایک ایک اعلیٰ سطح کے علاقائی مکالمہ منعقد ہوا ۔ڈائیلاگ میں پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے پالیسی سازوں، ماہرینِ ترقی اور ڈیجیٹل اختراع کاروں و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد جامع، محفوظ اور …

اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):گلوب سائٹ اور بنگلہ دیش کے سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (سی پی ڈی) کے اشتراک سے “South Asia in the Global DPI Moment: Opportunities & Challenges” کے موضوعپر ایک ایک اعلیٰ سطح کے علاقائی مکالمہ منعقد ہوا ۔ڈائیلاگ میں پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے پالیسی سازوں، ماہرینِ ترقی اور ڈیجیٹل اختراع کاروں و نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد جامع، محفوظ اور مربوط ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے نظام کے فروغ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔جنوبی ایشیا جو تقریباً 2 ارب آبادی پر مشتمل خطہ ہےاس وقت ڈیجیٹل انقلاب کے عروج پر ہے تاہم اس کے 1.1 ارب سے زائد افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔

جمعرات کو جاری پریس ریلیز کے مطابق مکالمے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ عوامی ڈیجیٹل نظام ہی وہ راستہ ہیں جو مالی شمولیت، عوامی خدمات تک رسائی، اور ڈیجیٹل تبدیلی میں کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے کی ضمانت فراہم کرتا ہے ۔اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نادرا، ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک، وزارتِ ڈیجیٹل اکانومی (سری لنکا)، نیپال بینک اور بنگلہ دیش بینک کے سینئر نمائندگان نے اپنے ملکوں کے تجربات پیش کئے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پالیسی سطح پر تعاون اور اشتراک ہی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کر سکتا ہے۔

انہوں نے مالی شمولیت، سروس ڈلیوری میں بہتری، اور علاقائی انضمام کے فروغ کے لئے ڈیجیٹل ایکوسسٹمز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔گلوب سائٹ کی نمائندہ ماہ رُخ شاہد نے افتتاحی کلمات میں علاقائی اشتراک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ملکوں کو چاہئے کہ وہ اشتراک اور تجربات کا تبادلہ بڑھائیں تاکہ ڈی پی آئی اقدامات کے کامیاب نفاذ اور اپنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے جس سے جامع اور وسعت پذیر نظام قائم ہوں جو ڈیجیٹل رابطے اور معاشی انضمام کو مضبوط بنائیں۔سینٹر فار پالیسی ڈائیلاگ (سی پی ڈی ) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فہمیدہ خاتون نے کہا کہ ڈی پی آئی روزگار کے بہتر مواقع، زندگی کے معیار میں بہتری اور جدت کے فروغ کا ذریعہ ہے کیونکہ یہ خدمات کے معیار، پیداواریت اور طرزِ حکمرانی کو بہتر بناتا ہے۔

اجلاس میں ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ڈیٹا ایکسچینج اور دیگر بنیادی ڈیجیٹل نظاموں پر تفصیلی گفتگو ہوئی جو ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ شرکاء نے عملدرآمد، حکمرانی، مساوات اور علاقائی بہترین تجربات کے پہلوؤں پر غور کیا اور مزید تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی نمائندہ انعم حا مد کا کہنا تھا کہ راست سسٹم نے ملک میں انٹرآپریبلٹی کو ممکن بنایا ہے، ہمارے پاس 46 ملین رجسٹرڈ راست آئی ڈیز اور موبائل والٹس موجود ہیں جنہوں نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔ اب بینک حکومت کی ادائیگیوں کو راست کے ذریعے منتقل کر رہا ہے اور ‘پرسن ٹو پرسن’ سے ‘پرسن ٹو مرچنٹ’ ادائیگیوں تک دائرہ بڑھا رہا ہے۔

سری لنکا کی وزارتِ ڈیجیٹل اکانومی کے مشیر اپول ابیسری وردھنا نے کہا کہ ہم نے اس بات کو سمجھا ہے کہ اعلیٰ سطحی پالیسی اقدامات اکیلے مسائل حل نہیں کر سکتے، اس لئے ہم حل کو نچلی سطح تک لے جا رہے ہیں اور نجی شعبے کو بھی وسیع پیمانے پر عملدرآمد میں شامل کر رہے ہیں۔یہ علاقائی مکالمہ جنوبی ایشیا کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ڈیجیٹل منظرنامے میں علم، تجربات اور تعاون کو فروغ دینے کی ایک جاری کوشش کا حصہ ہے۔ عوامی و نجی شعبوں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اس اجلاس نے منصفانہ، جامع اور پائیدار ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے فروغ کے عملی راستوں پر روشنی ڈالی۔