لاہور۔19فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے فراڈ کے مقدمے میں ملزم علی امین کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ21 فروری کو ٹرائل کورٹ میں تمام گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل کی جائے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت23 فروری تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت تک ٹرائل کی کارروائی …
لاہور ہائیکورٹ میں فراڈ کے مقدمے میں ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت

مزید خبریں
لاہور۔19فروری (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے فراڈ کے مقدمے میں ملزم علی امین کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ21 فروری کو ٹرائل کورٹ میں تمام گواہوں کے بیانات اور جرح مکمل کی جائے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت23 فروری تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ آئندہ سماعت تک ٹرائل کی کارروائی کو ہر صورت آگے بڑھایا جائے اور تمام گواہوں کو مقررہ تاریخ پر پیش کیا جائے تاکہ مقدمہ غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔
سماعت کے دوران عدالتی حکم پر سی سی پی او لاہور اور دیگر متعلقہ افسران عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے پولیس کی جانب سے مقدمے کے ریکارڈ اور گواہوں کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیسوں میں تاخیر عدالتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ تفتیشی مراحل اور ریکارڈ کی عدم تکمیل کے باعث ہوتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ بعض اوقات پراپرٹی ریکارڈ یا تفتیش مکمل نہ ہونے سے مقدمات تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں، حالانکہ عدالتیں اس حوالے سے سخت احکامات بھی جاری کرتی ہیں۔ سی سی پی او لاہور نے عدالت کو بتایا کہ ایک پیشی پر ایک ریکارڈ پیش نہیں ہو سکا، جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت سے قبل تمام شواہد اور گواہوں کی حاضری یقینی بنائی جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے وکیل ملک اکرام اللہ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ عدالت پہلے ہی ایک ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے مگر پولیس گواہ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ وکیل کے مطابق ملزم 8 ماہ سے جیل میں ہے، لہذا ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ21 فروری کو ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی کارروائی مکمل کرانے کے لیے عملی پیش رفت یقینی بنائی جائے اور رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کی جائے۔








