حیدرآباد۔ 19 فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنر ل زرعی توسیع سندھ نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے زرعی تخمینے ، کیمیائی کھاد (ڈی اے پی اور یوریا) کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ کی غیریقینی کی صورتحال کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار سخت مالی بحران میں تھے، ایسی صورتحال کے پیش نظر حکومت سندھ نے کاشتکاروں کی کفالت کے لیے سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام2025 شروع کیا …
سندھ حکومت کا سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام2025 گندم کے کاشتکاورں کے لیے موثر ثابت ہوا، ڈی جی زرعی توسیع
حیدرآباد۔ 19 فروری (اے پی پی):ڈائریکٹر جنر ل زرعی توسیع سندھ نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے زرعی تخمینے ، کیمیائی کھاد (ڈی اے پی اور یوریا) کی قیمتوں میں اضافے اور مارکیٹ کی غیریقینی کی صورتحال کے باعث چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاشتکار سخت مالی بحران میں تھے، ایسی صورتحال کے پیش نظر حکومت سندھ نے کاشتکاروں کی کفالت کے لیے سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام2025 شروع کیا جوکہ گندم کے کاشتکاروں کے لیے موثر ثابت ہوا۔ یہ بات انہوں نے اپنے اعلامیہ میں ظاہرکی۔ اعلامیہ کے مطابق گندم کفالت پروگرام کی رجسٹریشن صاف، شفاف اور ڈیجیٹل سسٹم کے تحت مقرر کردہ تاریخ 08.11.2025 تک مکمل کی گئی جس کے بعد موبائل ایپلیکیشن کو مکمل طور پر بند کیاگیا۔
اعلامیہ میں بتایا گیاہے کہ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں ایک ایکڑ سے 25 ایکڑز تک محکمہ ریونیوکی جانب سے 336000 تصدیق شدہ کاشتکاروں میں سے 332689 کاشتکاروں کی ڈی اے پی کھاد کی مد میں 14000روپے فی ایکڑ رقم جاری ہو چکی ہے جس سے گندم کی کاشت کے مہیا کردہ 3500140ایکڑ ہدف سے 5.6 فیصد 3695750 ایکڑ زائد گندم کاشت کی گئی جو کہ ملک کی غذائی طلب کے لیے مددگار ثابت ہوگی جبکہ یوریا کھاد کے لیے بقیہ رقم8000 روپے فی ایکڑ گندم کی کاشت کی تصدیق کے بعد کاشتکاروں کو مہیا کی جارہی ہے۔ اعلامیہ میں بتایاگیا ہے کہ حکومت سندھ کے اس پروگرام کو زراعت سے منسلک فریقین نے سراہا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے پروگرام مختلف فصلوں کے لیے بھی شروع کیے جائیں تاکہ سندھ صوبے کا کاشتکار خوشحال ہواورزراعت کو فروغ ملے۔









