بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی عدلیہ کی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے ناگزیر ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک بھر میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات اور سولرائزیشن کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور تمام صوبوں کے ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکرٹریز نے شرکت کی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک بھر کی عدالتوں اور بار رومز میں …

اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں ملک بھر میں عدالتی بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات اور سولرائزیشن کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور تمام صوبوں کے ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکرٹریز نے شرکت کی۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ملک بھر کی عدالتوں اور بار رومز میں سولرائزیشن، ای لائبریریز، واٹر فلٹریشن پلانٹس، خواتین و والدین کے لیے علیحدہ سہولت مراکز اور فیملی کورٹس کی ترقیاتی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بلا تعطل اور پائیدار توانائی کی فراہمی عدلیہ کی کارکردگی اور ادارہ جاتی وقار کے لیے ناگزیر ہے، خاص طور پر محروم اور موسمیاتی لحاظ سے حساس علاقوں میں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ بنیادی ڈھانچے کے خلا کی نشاندہی کی جائے اور آن گرڈ و آف گرڈ حل مقامی موسمی اور عملی حالات کے مطابق نافذ کیے جائیں۔پنجاب میں 56 بار رومز کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے جبکہ مزید 47 میں کام جاری ہے۔ صوبے میں 62 ای لائبریریز قائم کی جا چکی ہیں اور مزید 53 میں توسیع جاری ہے۔

ضلعی عدالتی کمپلیکسز میں 47 واٹر فلٹریشن پلانٹس، 32 ڈے کیئر مراکز، 74 خواتین سہولت مراکز اور 75 وزیٹیشن رومز قائم کیے جا چکے ہیں۔سندھ میں 65 بار رومز اور 92 عدالتیں سولرائز ہو چکی ہیں۔ ای لائبریریز اور ای-کیاسک مشینوں کے قیام کے ساتھ 11 اضلاع میں واٹر فلٹریشن پلانٹس اور 28 اضلاع میں عدالتوں تک پانی کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ 28 اضلاع اور 19 تعلقہ مقامات پر خواتین مرکز سہولیات تعمیر کی جا رہی ہیں۔خیبر پختونخوا میں 51 بار رومز اور 39 عدالتیں سولرائز ہو چکی ہیں۔ 66 بار رومز اور 62 عدالتوں میں ای لائبریریز قائم کی جا چکی ہیں۔ 22 اضلاع اور 11 تحصیلوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جا چکے ہیں۔

سوات اور ہری پور میں "دا سر سُوری” پروگرام کے تحت پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے خواتین کے لیے قانونی معاونت اور دیگر معاون خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔بلوچستان میں 35 سیشنز ڈویژنز کی سولرائزیشن مکمل ہو چکی ہے اور ای لائبریریز قائم کر دی گئی ہیں۔ 13 سیشنز ڈویژنز میں واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ صوبائی حکومت سے باقی مقامات پر سولرائزڈ ٹیوب ویلز اور ای-کورٹس کے قیام کے لیے ٹینڈرز جاری ہیں۔

تمام منصوبے سیکرٹری ایل جے سی پی کی نگرانی اور چیف جسٹس آف پاکستان کی ذاتی مانیٹرنگ میں جاری ہیں۔ اجلاس کا اختتام ماحول دوست، کم لاگت اور عوام دوست بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے عدلیہ کے عزم کے اعادے پر ہوا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سولرائزیشن محض توانائی کا اقدام نہیں بلکہ عدالتی آپریشن کی پائیداری اور عوام کو بروقت انصاف تک رسائی کے لیے ایک ساختی اصلاح ہے۔

 

مزید خبریں