اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان گورننس فورم کا انعقاد احسن اقدام ہے، گورننس فورم معاشی اور اقتصادی حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی اہم چیلنجز ہیں، مو سمیاتی تبدیلی سے آنے والے نقصانات سے بچنا ناگزیر ہے، آبادی کا غیر معمولی اضافہ خوراک جیسے چیلنج پیدا کر رہا …
پاکستان گورننس فورم معاشی اور اقتصادی حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، وفاقی وزیرڈاکٹر مصدق ملک

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان گورننس فورم کا انعقاد احسن اقدام ہے، گورننس فورم معاشی اور اقتصادی حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوگا، موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی آبادی اہم چیلنجز ہیں، مو سمیاتی تبدیلی سے آنے والے نقصانات سے بچنا ناگزیر ہے، آبادی کا غیر معمولی اضافہ خوراک جیسے چیلنج پیدا کر رہا ہے، حکومت درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ یقینی بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں’’ پاکستان گورننس فورم 2026 ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ قدرتی آفات خصوصاً سیلاب کے باعث ہماری فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں اور سب سے زیادہ نقصان غریب کسانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک غریب شخص جو ٹھیکے پر زمین لے کر کاشتکاری کرتا ہے، جب اس کی زمین 7 سے 8 فٹ پانی میں ڈوب جاتی ہے اور جب 4 ماہ بعد پانی اترتا ہے تو اس کے پاس دوبارہ بیج اور کھاد خریدنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہوتے۔ جو فصل آئندہ کچھ ماہ کے اخراجات پورے کرنے کا ذریعہ بنتی، وہ بھی بہہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیلاب سے ہونے والا نقصان مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 9.8 فیصد تک پہنچ جاتا ہے اور یہ وسائل صرف نقصانات کے ازالے پر صرف ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ آفات میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، بیس ہزار افراد زخمی ہوئے، تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور غربت کی لکیر سے نکلنے والے لوگ دوبارہ غربت میں چلے گئے۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ قدرتی آفات کو روکا نہیں جا سکتا لیکن ان کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے، خصوصاً ان طبقات کے تحفظ کے لیے جو سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں، جن میں غریب خاندان، والدین اور کم عمر بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی وارننگ سسٹمز، حفاظتی بندوبست اور گلیشیئرز سے متعلق اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کاربن کے اخراج کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے اثرات ہم جیسے ممالک کو بھی بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز پگھلتے ہیں، دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی گنجائش کم پڑ جاتی ہے اور سیلاب آتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مون سون کے پیٹرن میں تبدیلی، شدید بارشیں، ٹورینشل فلڈز، دریائی سیلاب، سمندری طوفان اور شہری علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات کے باعث ہیٹ ویوز جیسے مسائل شدت اختیار کر رہے ہیں۔ مصدق ملک نے کہا کہ مختلف اقسام کی آفات کا طریقہ کار الگ الگ ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ماہرین اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی میں نمایاں ہو چکے ہیں اور ماحول میں آنے والی تبدیلیاں مستقبل کے لیے سنگین چیلنج کی صورت اختیار کر رہی ہیں۔








