اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور عدلیہ اس مقصد کے حصول کے لئے بار کے ساتھ مل کر جامع اور پائیدار اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جمعرات کو بار نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ …
انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے اور عدلیہ اس مقصد کے حصول کے لئے بار کے ساتھ مل کر جامع اور پائیدار اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جمعرات کو بار نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی لیگل امپاورمنٹ کمیٹیوں (DLECs) کو مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عام شہری بالخصوص خواتین اور کمزور طبقات کو فوری اور معیاری قانونی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
چیف جسٹس نے بتایا کہ 2025-26 کے اصلاحاتی پروگرام کے تحت عدالتی عمارتوں کی سولرائزیشن، ای لائبریریوں کے قیام، خواتین کے لئے سہولتی مراکز کے قیام اور صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کے لئے ملک بھر میں فنڈز مختص کئے گئے ہیں جن سے بنچ اور بار دونوں مستفید ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کی اپ گریڈیشن کو ترجیح دی جائے گی جبکہ بار کونسلز کی مفت قانونی امداد کو مربوط نظام کے تحت ضلعی کمیٹیوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا،
اس مقصد کے لئے سپریم کورٹ میں ایک خصوصی ہیلپ لائن بھی قائم کی جائے گی جہاں نامزد پروبونو وکلاء شہریوں کو قانونی مشاورت فراہم کریں گے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے مزید کہا کہ نوجوان وکلاء کی پیشہ وارانہ تربیت کے لئے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام آن لائن بار ووکیشنل کورس متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ قانونی پیشے میں مہارت، معیار اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔








