اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہورہاہے، نوجوانوں میں معاشی استحکام اور اصلاحات کی رفتار پر اعتماد مضبوط ہو رہاہے۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں پہلی بار سرمایہ کاروں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ، 26 فروری تک مجموعی …
سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، نوجوانوں میں معاشی استحکام اور اصلاحات کی رفتار پر اعتماد مضبوط ہو رہاہے، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ سٹاک مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کی تعدادمیں تیزی سے اضافہ ہورہاہے، نوجوانوں میں معاشی استحکام اور اصلاحات کی رفتار پر اعتماد مضبوط ہو رہاہے۔جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پرجاری بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں پہلی بار سرمایہ کاروں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے ، 26 فروری تک مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 5لاکھ دوہزار 24ہوگئی ہے۔ جون 2022ء سے اب تک 227000 سے زائد نئے سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے ہیں ، محض ساڑھے تین برس سے کچھ زائد مدت میں 83 فیصد کا شاندار اضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔
خرم شہزادنے کہاکہ درحقیقت گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں شامل ہونے والے سرمایہ کاروں کی تعداد اس سے پہلے کے تمام برسوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے، سٹاک ایکسچینج کے آغاز سے لیکر جون 2022ء تک سرمایہ کاروں کی تعداد 275000 تھی، جون 2022ء سے فروری 2026ء تک کی مدت میں مزید دولاکھ 27ہزارسرمایہ کار مارکیٹ میں آئے،سرمایہ کاروں کی تعدادمیں جنوری 2026ء میں ایک ہی ماہ میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اورکل 20ہزار600 جبکہ فروری میں بھی 18000 سے زائد سرمایہ کار مارکیٹ میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہاکہ زیادہ تر نئے شامل ہونے والے نوجوان ریٹیل سرمایہ کار ہیں جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خاص طور پر نوجوانوں میں معاشی استحکام اور اصلاحات کی رفتار پر اعتماد مضبوط ہو رہا ہے جب اعتماد بڑھتا ہے، پالیسی میں وضاحت آتی ہے اور ترقی کے امکانات معتبر ہوتے ہیں تو سرمایہ منڈیوں میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور شرکت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس رجحان سے ظاہرہورہاہے کہ بچتیں بتدریج پیداواری اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہی ہیں جو پائیدار معاشی توسیع کی بنیادی شرط ہے ۔ خرم شہزادنے کہاکہ اس سال 16 سے زائد نئے آئی پی اوز متوقع ہیں، پانچ لاکھ کی حد عبور کرنا محض ایک سنگِ میل نہیں بلکہ ڈھانچہ جاتی اشارہ ہے جس سے ظاہرہورہاہے کہ پاکستان کا مالیاتی نظام مزید گہرا ہو رہا ہے، اصلاحات کے ثمرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں اور پاکستان کی عوامی مارکیٹوں میں مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد اب تقریباً 1.3 ملین کے قریب پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع ہو رہی ہے، ان کے اعتماد میں اضافہ ہورہاہے اور ترقی ونمو کی کہانی پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔








