حیدرآباد۔ 26 فروری (اے پی پی):لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور مویشیوں کی نایاب و مقامی نسلوں کے فروغ کے لیے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔ معاہدے پر دونوں جامعات کے وائس چانسلرز نے دستخط کیے، اس سلسلے میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں سندھ …
لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور مویشیوں کی نایاب نسلوں کے فروغ کے لیے سندھ زرعی یونیورسٹی اور چولستان یونیورسٹی مابین مفاہمتی یادداشت پردستخط
حیدرآباد۔ 26 فروری (اے پی پی):لائیو اسٹاک کے شعبے کی ترقی اور مویشیوں کی نایاب و مقامی نسلوں کے فروغ کے لیے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے۔ معاہدے پر دونوں جامعات کے وائس چانسلرز نے دستخط کیے، اس سلسلے میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال اور چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد مظہر ایاز نے مشترکہ معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ غیر ملکی نسلوں پر انحصار بڑھانے کے بجائے خطے کی نایاب اور مقامی نسلوں کے فروغ پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں تحقیق کو فروغ دینا ناگزیر ہے اور اسی مقصد کے تحت چولستان یونیورسٹی کے ساتھ یہ معاہدہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی میں آرٹیفیشل انسیمینیشن سے متعلق تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کے لیے جلد ہی لائیو اسٹاک اور پولٹری کے ڈپلومہ کورسز بھی شروع کیے جائیں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد مظہر ایاز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے ذریعے مقامی اور بہتر نسلوں کی افزائش کو عالمی معیار تک لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی میں لائیو اسٹاک کا کردار نہایت اہم ہے اور دودھ و گوشت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تحقیقی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان علمی و تحقیقی تعاون، اساتذہ اور طلبہ کی تربیت کے لیے یہ معاہدہ اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر ظہیر احمد نظامانی اور پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر بھی موجود تھے۔









