اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے، بھارت اور اسرائیل بھی افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، دوست ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے تعاون سے افغانستان سے مذاکرات ہوئے اور اس حوالے سے ثبوت بھی پیش کئے گئےتاہم افغان حکومت کی جانب سے دہشت …
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے، فیصل کریم کنڈی

مزید خبریں
اسلام آباد۔26فروری (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں افغانستان کی سرزمین استعمال ہورہی ہے، بھارت اور اسرائیل بھی افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، دوست ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے تعاون سے افغانستان سے مذاکرات ہوئے اور اس حوالے سے ثبوت بھی پیش کئے گئےتاہم افغان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیر اہتمام افغانستان میں قائم عدم تحفظ و دہشت گردی سے پاکستان کو تجارتی و معاشی نقصانات کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں سفیر اور صدر آئی آر ایس جوہر سلیم،ڈاکٹر حمیرا عنبرین، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین، دانشوروں اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ سیمینار میں خطے کی مجموعی صورتحال، دہشت گردی، پاک ۔افغان تعلقات اور علاقائی روابط پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان، پولیس سمیت دیگر سکیورٹی فورسز اور عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں،تمام تر تحفظات کے باوجود بات چیت کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، دہشت گردی کے باعث دوطرفہ تجارت متاثر ہو رہی ہے جس پر سنجیدگی سے بات کرنے کی ضرورت ہے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی اور سفارتی رابطوں کا فقدان ہے جسے دور کرنا ناگزیر ہے،پاکستان میں اس وقت بڑی تعداد میں غیر قانونی افغان باشندے مقیم ہیں جو آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اداروں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مکالمے، تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکلات کو مواقع میں بدل دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو محض ایک فرنٹ لائن صوبے کے طور پر دیکھنا درست نہیں بلکہ یہ خطوں کو جوڑنے والا پل اور منڈیوں کو ملانے والا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سکیورٹی بنیادی اہمیت رکھتی ہے تاہم ایک محفوظ سرحد کے ساتھ ساتھ اسے فعال اور پیداواری بھی بنانا ہوگا۔








