اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کو آگاہ کیا گیا کہ (نیب)نے پانچ برسوں کے دوران براہِ راست ریکوری، پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی، تصفیوں اور سرکاری اراضی کی بازیابی کی مد میں 11.56 کھرب روپے وصول کیے۔ جمعہ کے روز سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ مجموعی وصولیاں 11,565,257.62 ملین روپے رہیں جو …
نیب نے پانچ برسوں کے دوران براہِ راست ریکوری، پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی، تصفیوں اور سرکاری اراضی کی بازیابی کی مد میں 11.56 کھرب روپے وصول کیے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ کو آگاہ کیا گیا کہ (نیب)نے پانچ برسوں کے دوران براہِ راست ریکوری، پلی بارگین، رضاکارانہ واپسی، تصفیوں اور سرکاری اراضی کی بازیابی کی مد میں 11.56 کھرب روپے وصول کیے۔ جمعہ کے روز سینیٹر طلحہ محمود کے سوال کے جواب میں وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ مجموعی وصولیاں 11,565,257.62 ملین روپے رہیں جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نیب کی مربوط کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئیں۔وزیر قانون نے بتایا کہ مختلف صوبوں خصوصاً پنجاب اور سندھ میں دہائیوں سے غیر قانونی قبضے میں موجود وسیع سرکاری اراضی بشمول جنگلاتی رقبہ واگزار کرا کے متعلقہ صوبائی حکام کے حوالے کی گئی۔ ا
نہوں نے کہا کہ بازیاب شدہ زمین کی توثیق متعلقہ صوبائی محکموں نے باقاعدہ طور پر کی۔ انہوں نے بتایا کہ 2021 میں نیب نے 16,953.79 ملین روپے کی براہِ راست ریکوری کی، 48.58 ملین روپے رضاکارانہ واپسی کے ذریعے جبکہ 69,289.46 ملین روپے متفرق مد میں وصول کیے۔2022 میں براہِ راست وصولیاں 3,927.19 ملین روپے رہیں، 10 ملین روپے رضاکارانہ واپسی کے ذریعے جبکہ 554.35 ملین روپے دیگر مدات میں وصول کیے گئے۔2023 سے 2025 کے دوران نیب نے 45,002.11 ملین روپے براہِ راست وصول کیے، 50.22 ملین روپے رضاکارانہ واپسی، 38,004.29 ملین روپے تصفیوں کے ذریعے، 10,982,000 ملین روپے مالیت کی سرکاری اراضی کی بازیابی جبکہ 409,417.63 ملین روپے متفرق مد میں وصول کیے۔وزیر قانون نے کہا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے جو اپنے قانونی دائرہ کار کے تحت کام کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احتسابی قوانین میں جون 2023 میں اہم ترامیم کی گئیں تاکہ شفافیت کو بہتر بنایا جا سکے اور احتسابی عمل کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں نیب کی توجہ عوامی رقوم کی وصولی اور قومی خزانے کو نقصان سے بچانے پر مرکوز رہی ۔انہوں نے وضاحت کی کہ پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی کے طریقہ کار مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کے تحت عوامی عہدہ رکھنے کے لیے مخصوص مدت تک نااہلی سمیت دیگر نتائج بھی مرتب ہوتے ہیں۔وزیر قانون نے اعادہ کیا کہ حکومت نیب کے امور میں مداخلت نہیں کرتی کیونکہ ادارہ نیب کے تحت خودمختار حیثیت سے کام کرتا ہے۔








