پاکستان نے ادارہ جاتی روابط کو مستحکم کرنے کے لئے کمبوڈیا کو اسلام آباد میں اپناسفارتخانہ کھولنے کی پیشکش کی ہے، وزارت خارجہ

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان-کمبوڈیا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا پہلا بریفنگ اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت گروپ کی کنوینئر رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے کی۔اجلاس میں دانیال احمد، احمد عتیق انور، ثمر ہارون بلور، تمکین اختر نیازی، ماہ جبیں خان عباسی، شازیہ فرید، نتاشہ دولتانہ، نیلم کماری اور سعیدہ جمشید نے شرکت کی۔ وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کے حکام بھی اجلاس …

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):پاکستان-کمبوڈیا پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا پہلا بریفنگ اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت گروپ کی کنوینئر رکن قومی اسمبلی شمائلہ رانا نے کی۔اجلاس میں دانیال احمد، احمد عتیق انور، ثمر ہارون بلور، تمکین اختر نیازی، ماہ جبیں خان عباسی، شازیہ فرید، نتاشہ دولتانہ، نیلم کماری اور سعیدہ جمشید نے شرکت کی۔ وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کے حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دی۔کنوینئر شمائلہ رانا نےدونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دہتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس دونوں ممالک کی م

قننہ کے درمیان مکالمے اور عوامی سطح پر روابط کو گہرا کرنے کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ہیں، ہمیں امید ہے کہ یہ گروپ تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ وزارت خارجہ کے حکام نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے کمبوڈیا کو اسلام آباد میں اپنا سفارتی مشن (سفارتخانہ) کھولنے کی پیشکش کی ہے تاکہ ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ پاکستان ان ابتدائی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کمبوڈیا کو تسلیم کیا اور تب سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہیں،حالیہ برسوں میں تجارت، معیشت اور پارلیمانی سطح پر تعاون میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ سیکنڈ جوائنٹ ٹریڈ کمیشن کے اجلاس نے تعاون کے نئے شعبوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان اور کمبوڈیا کے درمیان ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات ،ادویات ،انفارمیشن ٹیکنالوجی ،سیاحت اور ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تجارت بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اراکین پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے کے لئے تعلیم، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں پر توجہ دی جائے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔