پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کے فروغ پر اعلیٰ سطحی اجلاس

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت جمعرات کو یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ترکیہ کے وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو کر رہے تھے جبکہ اجلاس کی میزبانی پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آ ر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے …

اسلام آباد۔5مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت جمعرات کو یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ترکیہ کے وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو کر رہے تھے جبکہ اجلاس کی میزبانی پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آ ر سی ) کے چیئرمین ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے کی۔اجلاس میں پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے، گوشت کی پراسیسنگ، جانوروں کی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور برآمدات کے فروغ کے لئے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترک وفد میں لائیو سٹاک، جینیٹکس، جانوروں کی بیماریوں کے کنٹرول، سرٹیفیکیشن، لاجسٹکس اور کولڈ چین کے شعبوں کے ماہرین شامل ہیں جو پاکستان میں مختلف لائیو سٹاک مراکز اور سلاٹر ہاؤسز کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ موجودہ نظام کا جائزہ لے کر اس شعبے کی بہتری کے لئے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لائیو سٹاک کا شعبہ زرعی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور اسے جدید بنانے سے نہ صرف خوراک کے تحفظ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ گوشت اور دیگر لائیو اسٹاک مصنوعات کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لائیو سٹاک کی پیداوار، گوشت کی پراسیسنگ اور ویلیو چین کو مزید مؤثر اور برآمدات کے لئے موزوں بنانا چاہتا ہے۔اجلاس میں سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری (ایس پی ایس) معیارات کی بہتری، لائیو سٹاک کی ٹریس ایبلٹی کے نظام کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کو بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترکیہ نے پاکستان کے لائیو سٹاک اور گوشت کی برآمدات کو فروغ دینے کے لئے تکنیکی تعاون خاص طور پر یورپی یونین کے معیارات کے مطابق نظام کو ہم آہنگ بنانے کے حوالے سےتعاون کی پیشکش کی ۔

اجلاس میں پاکستان میں بیماری سے پاک پائلٹ ریجن کے قیام کی تجویز پر بھی غور کیا گیا جس کے ذریعے لائیو سٹاک اور مویشیوں سے حاصل ہونے والی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیا جا سکے گا۔ اس اقدام کے تحت بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن کے نظام کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہوگی۔اس کے علاوہ لائیو سٹاک کی مؤثر نگرانی اور بیماریوں کے کنٹرول کے لئے جدید ڈیجیٹل اینیمل ٹریکنگ سسٹم کے استعمال، فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز (ایف ایم ڈی) اور لمپی سکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی ) جیسی بیماریوں کے خلاف ویکسین کی فراہمی اور مستقبل میں ممکنہ مشترکہ ویکسین پیداوار کے امکانات پر بھی گفتگو کی گئی۔ جدید اور بین الاقوامی معیار کے سلاٹر ہاؤسز کے قیام اور کولڈ چین نظام کی بہتری کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو نے اس موقع پر کہا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ لائیو سٹاک کے شعبے میں قریبی تعاون کو فروغ کے لئے پرعزم ہے اور ترک ماہرین پاکستان کے مختلف لائیو سٹاک مراکز اور سہولیات کا دورہ کر کے اس شعبے کو جدید اور برآمدات کے قابل بنانے کے لئے عملی سفارشات مرتب کریں گے۔چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کے ذریعے پاکستان کے لائیو سٹاک شعبے کی پیداواری صلاحیت اور معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ترک ماہرین کے دوروں اور تکنیکی مشاورت کی بنیاد پر ایک جامع رپورٹ اور تعاون کا روڈ میپ تیار کیا جائے گا جس کے تحت پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر کو جدید، مؤثر اور برآمدات کے لئے موزوں بنانے کے لئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں گے۔ ترک وفد آئندہ دنوں میں پاکستان کے مختلف لائیو سٹاک مراکز اور سہولیات کا دورہ جاری رکھے گا اور اس شعبے کی بہتری کے لئے اپنی سفارشات پیش کرے گا۔