آئی سی سی کابھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر ارشدیپ سنگھ پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 15فیصد جرمانہ عائد

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر ارشدیپ سنگھ پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ واقعہ آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026کے فائنل کے دوران پیش آیا جو اتوار کو احمد آباد میں نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلا گیا تھا۔

لاہور۔10مارچ (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر ارشدیپ سنگھ پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ واقعہ آئی سی سی مینز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2026کے فائنل کے دوران پیش آیا جو اتوار کو احمد آباد میں نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلا گیا تھا۔آئی سی سی کے مطابق ارشدیپ سنگھ کو پلیئرز اور پلیئر سپورٹ پرسنل کیلئے بنائے گئے آئی سی سی ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.9کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔

اس شق کا تعلق میچ کے دوران گیند یا کرکٹ کے کسی سامان کو نامناسب یا خطرناک انداز میں کسی کھلاڑی کی جانب پھینکنے سے ہے۔یہ واقعہ نیوزی لینڈ کی اننگز کے 11ویں اوور میں پیش آیا جب ارشدیپ سنگھ نے اپنی فالو تھرو پر گیند کو فیلڈ کرتے ہوئے جارحانہ انداز میں واپس پھینکا جو بلے باز ڈیرل مچل کی ٹانگوں سے جا لگی۔اس خلاف ورزی کے باعث ارشدیپ سنگھ کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا ہے، تاہم گزشتہ 24ماہ کے دوران یہ ان کا پہلا جرم ہے۔ ارشدیپ نے اینڈی پائکرافٹ کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی جس کے باعث باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

آن فیلڈ امپائرز رچرڈ الینگ ورتھ اور ایلکس وارف، تھرڈ امپائر اللہ الدین پالیکر اور فورتھ امپائر ایڈرین ہولڈ اسٹاک نے اس معاملے میں چارج عائد کیا تھا۔آئی سی سی کے قوانین کے مطابق لیول ون کی خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری تنبیہ اور زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50فیصد جرمانہ جبکہ ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس دئیے جا سکتے ہیں، اگر کسی کھلاڑی کے 24ماہ کے اندر چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو وہ معطلی پوائنٹس میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھلاڑی پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔