متاثرہ کھلاڑیوں و عملے کی واپسی کیلئے ایئرپورٹ حکام و مختلف ممالک کی حکومتی اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہیں،آئی سی سی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے کھلاڑی، کوچز، سپورٹ سٹاف و اہل خانہ جو ٹورنامنٹ مکمل کر چکے اور وہ جلد اپنے ممالک واپس جانا چاہتے ہیں تاہم اب تک واپسی ممکن نہ ہونا سب کے لیے باعثِ تشویش اور مایوسی ہے۔ آئی سی سی بھی اس صورتحال پر کھلاڑیوں کی طرح تشویش اور …

لاہور۔11مارچ (اے پی پی):انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کہا ہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کرنے والی ٹیموں کے کھلاڑی، کوچز، سپورٹ سٹاف و اہل خانہ جو ٹورنامنٹ مکمل کر چکے اور وہ جلد اپنے ممالک واپس جانا چاہتے ہیں تاہم اب تک واپسی ممکن نہ ہونا سب کے لیے باعثِ تشویش اور مایوسی ہے۔ آئی سی سی بھی اس صورتحال پر کھلاڑیوں کی طرح تشویش اور مایوسی محسوس کر رہا ہے۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ تاخیر کی بنیادی وجہ خلیجی خطے میں جاری بحران ہے جس کے باعث بین الاقوامی فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے۔ فضائی حدود کی بندش، میزائل وارننگز، پروازوں کے متبادل روٹس، اور کمرشل و چارٹر فلائٹس کی اچانک منسوخی یا ری شیڈولنگ نے سفری انتظامات کو غیر معمولی حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے جو کہ آئی سی سی کے کنٹرول سے باہر عوامل ہیں۔بیان کے مطابق آئی سی سی مسلسل ایئرلائنز، چارٹر آپریٹرز، ایئرپورٹ حکام، گرائونڈ ہینڈلرز اور مختلف ممالک کی حکومتی اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ کھلاڑیوں اور عملے کی محفوظ واپسی کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکے۔

موجودہ انتظامات کے تحت جنوبی افریقہ کا دستہ آج رات اپنے ملک کے لیے روانہ ہونا شروع ہو جائے گا اور توقع ہے کہ اگلے 36 گھنٹوں میں تمام ارکان روانہ ہو جائیں گے۔ ویسٹ انڈیز کے نو ارکان پہلے ہی کیریبین کے لیے سفر کر رہے ہیں جبکہ باقی 16 ارکان آئندہ 24 گھنٹوں میں بھارت سے روانہ ہونے والی پروازوں پر بک ہیں۔ مزید روانگیوں کے حوالے سے انتظامات کی تصدیق کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔آئی سی سی نے واضح کیا کہ ان فیصلوں کا مقصد صرف کھلاڑیوں اور عملے کی حفاظت، سفری ممکنات اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی ایسی قیاس آرائیاں کے فیصلے کسی اور وجہ سے کیے جا رہے ہیں جو غلط اور غیر مددگار ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیے کیے گئے انتظامات کا انگلینڈ یا کسی اور ٹیم کے پہلے کیے گئے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ ہر ٹیم کے سفری حالات، راستے اور دستیاب پروازیں مختلف تھیں۔

آئی سی سی کے مطابق اس پورے عرصے میں سب سے اہم ترجیح تمام متاثرہ افراد کی سلامتی اور فلاح رہی ہے، خاص طور پر وہ کھلاڑی جو اپنے اہل خانہ اور کم عمر بچوں کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ ادارہ اس وقت تک کسی کو سفر پر روانہ نہیں کرے گا جب تک مکمل طور پر محفوظ انتظامات یقینی نہ ہو جائیں۔آئی سی سی نے کھلاڑیوں، ٹیم مینجمنٹ، کرکٹ بورڈز اور شراکت داروں کا مشکل صورتحال میں صبر اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کے عملے کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں اور ٹیم منیجرز کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں جبکہ صورتحال کے مطابق مزید اپ ڈیٹس بھی جاری کی جاتی رہیں گی۔