فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن کی شکایت ،فیفا کااسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن پر جرمانہ اور پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

زیورخ۔20مارچ (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے) پر ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث بھاری جرمانہ اور تادیبی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔فیفا ڈسپلنری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن امتیازی سلوک، نسل پرستی پر مبنی جملے بازی اور …

زیورخ۔20مارچ (اے پی پی):فٹ بال کی عالمی تنظیم (فیفا) نے فلسطین فٹ بال ایسوسی ایشن (پی ایف اے) کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن (آئی ایف اے) پر ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث بھاری جرمانہ اور تادیبی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔فیفا ڈسپلنری کمیٹی کی تحقیقات کے مطابق اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن امتیازی سلوک، نسل پرستی پر مبنی جملے بازی اور کھیل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی (آرٹیکل 13 اور 15) کی مرتکب پائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن کو 1 لاکھ 50 ہزار سوئس فرانک (تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالرز) جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیفا نے اسرائیلی ایسوسی ایشن کو ان کے رویے پر سخت وارننگ جاری کی ہے۔اسرائیل کو اپنے اگلے تین ہوم میچوں میں اسٹیڈیم کے نمایاں حصوں پر "فٹ بال دنیا کو متحد کرتا ہے – امتیازی سلوک کو نا کہیں”کے بڑے بینرز آویزاں کرنے ہوں گے۔کمیٹی نے اسرائیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر ایک جامع "پروینشن پلان” (تدارکہ منصوبہ) پیش کرے جس کا مقصد نسل پرستی اور امتیازی سلوک کو روکنا ہے۔ جرمانے کی رقم کا ایک تہائی حصہ اسٹیڈیمز میں تعلیمی مہمات اور اصلاحات پر خرچ کیا جائے گا۔ باقی ماندہ رقم فیصلے کے نوٹس کے 30 دن کے اندر جمع کرانی ہوگی۔

فیفا ڈسپلنری کمیٹی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگرچہ ان کا دائرہ اختیار فٹ بال کے قواعد تک محدود ہے، لیکن وہ انسانی تناظر اور عالمی حالات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کھیل کو امن، مکالمے اور باہمی احترام کا پلیٹ فارم ہونا چاہیے۔ تنازعات اور تقسیم کے دور میں فٹ بال کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی وقار اور مساوات کے اقدار کو برقرار رکھے۔اسرائیل فٹ بال ایسوسی ایشن کو فیصلے کی وجوہات سے آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم وہ اس فیصلے کے خلاف فیفا اپیل کمیٹی میں درخواست دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔